رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:23 10.3.2021

خیبر پختونخوا میں بڑی عمر کے شہریوں کی ویکسی نیشن کا عمل شروع

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ویکسی نیشن کی مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد شہریوں کو ویکسین دی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے صوبائی دارالحکومت پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم کا کہنا تھا کہ ایل آر ایچ میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسی نیشن شروع کر دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً پچاس بزرگ شہریوں مرد و خواتین کو ویکسین لگائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایل آر ایچ کا کرونا ویکسی نیشن سینٹر صبح آٹھ بجے سے شاہ چھ بجے تک کھلا رہتا ہے۔

ایل آر ایچ کے ترجمان نے واضح کیا کہ بزرگ شہریوں میں کسی کو بھی کسی قسم کا ری ایکشن نہیں ہوا۔

14:11 10.3.2021

پاکستان میں ساڑھے 16 ہزار سے زائد افراد زیرِ علاج، مزید 43 اموات

پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 43 افراد ہلاک جب کہ لگ بھگ 18سو متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمارکے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے 1786 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 16 ہزار 699 ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں وبا سے مجموعی طور ہر پانچ لاکھ 95 ہزار افراد متاثر ہوئے جن میں سے پانچ لاکھ 65 ہزار صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 13 ہزار 324 اموات ہوئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں زیرِ علاج 16 ہزار 699 افراد میں سے 1664 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

13:32 10.3.2021

کیسز میں اضافہ، پاکستان میں پھر پابندیاں نافذ، تعلیمی ادارے بند

پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ایک بار پھر پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود اور وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اجلاس کے بعد حکومتی فیصلوں سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دفاتر میں حاضری 50 فی صد رکھی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تفریحی پارک شام چھ بجے بند کیے جائیں گے۔ ان کے بقول صوبے اور شہر اپنے حالات کے مطابق پارک مزید جلدی بھی بند کر سکتے ہیں۔

فیصل سلطان نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ شادی ہالوں اور سنیما گھروں میں 15 مارچ سے سرگرمیاں مکمل بحال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال کے باعث پابندیاں برقرار رہیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کھلی فضا میں سرگرمیوں کی اجازت 15 اپریل تک برقرار ہے۔ اس وقت صورتِ حال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ جب کہ تقاریب میں 300 سے زائد افراد کی شرکت ممنوع ہو گی۔ اسی طرح ہوٹلوں میں انڈرو سروسز 15 اپریل تک بند رہیں گی۔

فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں اور قصبوں میں اسمارٹ یا مائیکرو لاک ڈاؤن ضرورت کے مطابق لگایا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پانچ کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان، سندھ اور بلوچستان میں صورتِ حال ابھی بہتر ہے۔ وہاں کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں 50 فی صد طلبہ روزانہ آئیں گے۔ اور سماجی دوری سمیت دیگر پابندیوں پر عمل کرتے ہوئے تعلیمی عمل جاری رہے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد، گجرات اور گجرانوالہ جب کہ خیبرپختونخوا میں پشاور میں 15 مارچ سے آئندہ دو ہفتے کے لیے تعلیمی ادارے بند ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا اطلاق وہاں نہیں ہوگا جہاں امتحانات ہو رہے ہیں۔ انتظامیہ امتحانات لے سکتی ہے۔

17:35 9.3.2021

کرونا بحران میں خواتین پر کیا گزری؟

کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں خواتین کے روزگار کو مردوں سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ زیادہ تر خواتین سیلونز اور ڈے کیئر جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں جنہیں عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔ سعدیہ زیب رانجھا نے امریکہ کی کچھ خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہےکہ گزشتہ ایک سال میں ان پر کیا گزری؟

کرونا بحران میں خواتین پر کیا گزری؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG