فرانس میں کرونا کی نئی قسم دریافت
فرانس کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آئی ہے۔
بیان کے مطابق فرانس کے علاقے برٹنی میں دریافت ہونے والی کرونا کی نئی قسم ابتدائی تحقیق کے مطابق کم خطرناک اور اس کے پھیلنے کی صلاحیت بھی کم ہے۔
فرانسیسی وزارتِ صحت کا مزید بتانا ہے کہ کرونا کی نئی قسم کا پہلا کیس لینین کے ایک اسپتال میں داخل مریض میں تشخیص ہوا تھا۔
سوئیڈن نے ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال روک دیا
یورپ کے مختلف ملکوں کی طرح سوئیڈن نے بھی برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرازینیکا کی تیار کردہ کرونا ویکسن کا استعمال روک دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سوئیڈن کے صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر انسدادِ کرونا کے خلاف ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال روک رہے ہیں۔
ویکسین کے بعد اس کے مبینہ ری ایکشن کی خبروں کے بعد کئی یورپی ملکوں نے مذکورہ ویکسین کی مہم روک دی تھی۔ جرمنی، فرانس اور اٹلی نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کا استعمال نہیں کریں گے۔
ہانگ کانگ: نومولود بچوں کو بھی قرنطینہ کرنے پر والدین پریشان
ایشیا کے اقتصادی مرکز ہانگ کانگ میں خاندانوں کو کرونا وائرس سے متعلق سخت ضابطوں کے سبب ایک دوسرے سے علیحدگی اور صدموں کا سامنا ہے۔ کئی بچوں کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ نومولود بچوں کو بھی 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔
ہانگ کانگ کے حکام نے کہا ہے کہ بچوں سمیت ہر وہ شخص جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے اسے اسپتال جانا ہو گا جب کہ ان کے قریبی تعلق میں رہنے والے افراد کو عارضی طور پر بنائے گئے قرنطینہ مراکز بھجوایا جائے گا، چاہے ان کا ٹیسٹ منفی ہی کیوں نہ آیا ہو۔
ایک والدہ کا کہنا ہے کہ یہ پاگل پن ہے۔ گزشتہ ہفتے ان کے بچے کو اس وقت ان سے الگ کر دیا گیا جب وہ ماں کا دودھ پی رہا تھا۔ ماں کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کے سبب دیگر ترقی یافتہ شہروں میں خاندانوں کو الگ کرنا معمول نہیں ہے۔
'ویکسین سے لوگوں کے متاثر ہونے کا تعلق ثابت نہیں ہوا'
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسی نیشن مہم کو نہ روکیں جب کہ ادارے نے اپنے مشاورتی پینل سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ویکسین کے نقصان دہ ہونے کی شکایات کا جائزہ لے اور اپنی تجاویز پیش کرے۔
عالمی ادارۂ صحت کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس منگل کو متوقع ہے جس میں ویکسین کی افادیت پر بات چیت کی جائے گی۔
ڈبلیو ایچ او کے چوٹی کے سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کرونا ویکسین سے اموات کا کوئی ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم کی سربراہ سومیا سوامیناتھن کا کہنا ہے کہ "ہمیں لوگوں کو افراتفری کا شکار نہیں کرنا چاہیے۔ جن ملکوں سے ویکسین کی شکایت سامنے آ رہی ہے وہاں اب تک ویکسین سے لوگوں کے متاثر ہونے کا تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔"