پاکستان: سخت پابندیوں کا عندیہ
پاکستان کے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سخت پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔
ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے کہا کہ کرونا کے مثبت کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے اور اسپتالوں میں مریضوں کے داخلوں اور لوگوں کی انتہائی نگہداشت کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایس او پیز پر عمل درآمد میں بہتری نہ لائی گئی تو عوام کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگانے پر مجبور ہوں گے۔
پاکستان: مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ
پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے کیسز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد چھ لاکھ 15 ہزار 810 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 44 ہزار 377 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے تین ہزار 495 کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ آٹھ فی صد ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان میں رپورٹ ہونے والے نئے کیسز چھ دسمبر 2020 کے بعد سے یومیہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
علاوہ ازیں ملک میں مزید 61 افراد کرونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے اور اس طرح مجموعی ہلاکتیں 13 ہزار 717 تک جا پہنچی ہیں۔
کرونا نے امریکی طلبا کی اعلی تعلیم میں دلچسپی کم کر دی
حال ہی میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ کرونا بحران کے دوران امریکہ میں ہائی اسکول کے طلبا نے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کم دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ایک سال تک جہاں اسکولوں کی بندش، سیاسی صورتِ حال، اور نسل پرستی پر مبنی واقعات سے امریکی معاشرے میں موجود تفریق نمایاں ہوئی، وہاں اعلیٰ تعلیم کے مہنگے اخراجات بھی ان وجوہات میں شامل ہیں، جو طلبا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں کمی کا باعث بنے۔
وائس میڈیا کے تعاون سے منی ایپلس سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم پر تحقیق کرنے والے ادارے ای سی ایم سی گروپ کے مرتب کردہ ایک جائزے میں کل 3202 امریکی طلبا نے حصہ لیا۔ ان طلبا میں سے محض ایک چوتھائی طلبا نے اعلیٰ تعلیم کو بہتر ملازمت کے حصول کے لیے ضروری خیال کیا۔
ان طلبا کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ہائی اسکول انہیں اعلی تعلیم کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کریں۔ اکثر طلبا کا کہنا تھا کہ وہ خود سے اپنی منزل کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اور فی الوقت انہیں نہیں معلوم کہ اس کے لیے انہیں کون سا راستہ چننا چاہیے۔
کرونا بحران: جنوبی ایشیا میں 42 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر
کرونا بحران نے بچوں کی صحت، تعلیم تک رسائی اور ان کی زندگی میں ترقی کے امکانات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک سمیت دنیا کے کئی حصوں میں لاکھوں طالبات اسکول واپس نہیں جا پائیں گی۔
بچوں کے تعلیمی فنڈ کے ادارے یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور آبادی کے فنڈ کی تنظیم یو این ایف پی اے کی مشترکہ ترتیب دی گئی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں اس بحران کے دوران لاک ڈاؤن کے باعث 42 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہو گئے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچوں کا تعلق معاشرے کے غریب اور غیرمحفوظ طبقوں سے تھا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اتنے بڑے بحران کے بعد اب 45 لاکھ طالبات کبھی بھی اسکول واپس نہیں جا سکیں گی۔ لڑکیوں کو تولیدی صحت کی معلومات اور سہولیات تک عدم رسائی کے باعث مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔