پاکستان کو کرونا وائرس کی 'خطرناک' اقسام کا سامنا
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کو پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک میں کرونا وائرس کی نئی اقسام بھی داخل ہو چکی ہیں۔ بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟ جانتے ہیں نذر السلام سے
کرونا کے ماخذ کی تلاش کا دائرہ جنوب مشرقی ایشیا تک وسیع
کرونا وائرس کا سراغ لگانے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وائرس کے ماخذ کی تلاش پر جاری تحقیق کا دائرہ کار چین سے وسیع کر کے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلانا ہو گا۔
وائس آف امریکہ کے ژومبر پیٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وائرس کے پھوٹنے کی جگہ کی نشاندہی کے لیے کی جانے والی تحقیق کا مقصد آئندہ ایسی عالمی وبا کو پھوٹنے سے روکنا ہے۔
کووڈ 19 وبا کے پھوٹنے کے بعد سے اب تک سائنس دانوں نے اس مرض کا باعث بننے والے وائرس کے ماخذ کی تلاش میں اپنی توجہ چین کے شہر ووہان پر مرکوز کر رکھی ہے۔
کرونا وائرس سے 96 فی صد تک جینز کی مماثلت رکھنے والا ایک وائرس چین کے صوبے یونان میں گزشتہ برس دریافت کیا گیا تھا۔
لاک ڈاؤن کے دوران مہاجر بننے پر مجبور بھارتی مزدوروں کی مشکلات پر ڈاکیومینٹری
بھارت میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہروں میں بے روزگار ہونے کے بعد سیکڑوں میل پیدل یا سائیکل پر اپنے گھروں کو جانے والے مزدوروں کے سفر پر مبنی ایک ڈاکیومینٹری ریلیز کی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر ونود کاپڑی کی دستاویزی فلم 'KMS 1232' میں سات افراد کا وہ 'سفر' دکھایا گیا ہے جو انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران شہروں میں روزگار کھونے کے بعد میلوں پیدل چل کر اپنے گھروں کی طرف روانگی کے دوران کیا اور سہا۔
بھارت میں گزشتہ برس مارچ سے جون تک لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران 10 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔ انہیں شہر چھوڑ کر اپنے آبائی گھروں کو جانا پڑا تھا۔ ان میں سے بہت سے افراد کو پیدل ہی گھر جانا پڑا جس دوران انہوں نے سیکڑوں میل کا سفر طے کیا، جسے میڈیا اپنی رپورٹوں میں نشر کرتا رہا تھا۔
پاکستان میں کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں کرونا وبا کی تیسری لہر میں شدت کے باعث حکام نے مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
پیر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرِ صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں کرونا کیسز بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
این سی او سی کے اعلامیے کے مطابق ریستورانوں میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور ڈائننگ کی رات 10 بجے تک اجازت ہو گی۔
ضروری اشیا کے علاوہ دیگر کاروبار اور دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتے میں دو دن کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔
این سی او سی کے مطابق صرف 300 افراد کو کرونا ایس او پیز کے تحت کھلے مقامات پر جمع ہونے کی اجازت ہو گی۔ البتہ ہر قسم کی ان ڈور مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی۔
نئی پابندیوں کے تحت پارکس، تفریحی مقامات، جاگنگ ٹریکس اور سنیما گھر بند رہیں گے۔
انٹر ٹرانسپورٹ سروس میں 50 فی صد جب کہ ریلوے میں 70 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔