کرونا بحران: پاکستانی سنیما انڈسٹری کا مستقبل خطرے میں
پاکستان کی سنیما انڈسٹری کی حالت کرونا وبا سے پہلے ہی کچھ اچھی نہیں تھی لیکن عالمی وبا سے اسے شدید دھچکا لگا ہے۔ سنیما گھروں کی بندش اور فلموں کی نمائش نہ ہونے سے کون کون متاثر ہو رہا ہے؟ دیکھیے لاہور سے ثمن خان کی رپورٹ میں۔
پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد ٹیسٹ
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے ایک کروڑ سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹؑوں میں مزید 44 ہزار 279 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد مجموعی طور پر کیے جانے والے ٹیسٹ کی تعداد ایک کروڑ دو ہزار 107 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 48 ہزار 223 ٹیسٹ گزشتہ برس 27 نومبر کو کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح ابتدا میں دو سے تین فی صد تھی۔ بعد ازاں یہ چار سے چھ فی صد کے درمیان رہی۔ گزشتہ ایک ماہ سے اس شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب یہ شرح 10.1 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد میں تیزی سے اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید چار ہزار 468 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 42 ہزار 384 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے مزید 67 اموات بھی ہوئی ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر ہلاک شدگان کی تعداد 14 ہزار 158 ہو گئی ہے۔
کیا عالمی وبا ہالی وڈ کی کسی فلم کی طرح ایک دم ختم ہو جائے گی؟
ہم میں سے اکثر لوگ شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ ہالی وڈ کی کسی فلم کی طرح ایک دن ہم سب گھروں سے نکلیں گے، ماسک اتار پھینکیں گے اور اپنی زندگیاں جہاں ادھوری چھوڑی تھیں، وہیں سے دوبارہ شروع کر دیں گے۔ یہ دن کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کا آخری دن ہوگا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہوگا؟۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگ اس سے متفق نہیں ہیں۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی کامیڈین ایریکا رہوڈز کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اِس عالمی وبا کا کسی خاص قسم کا اختتام نہیں ہو گا۔ وه کہتی ہیں کہ ’’مجھے نہیں لگتا، ایسا کوئی وقت آئے گا، جب میں کہوں گی کہ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا میں نے چھوڑا تھا۔‘‘
رواں مہینے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ’’تاریکی میں روشنی ڈھونڈنا امریکہ کی ثقافت ہے"۔
لیکن کیا وبائی مرض سے متاثر ہونے والی زندگی کی اس کہانی کا انجام بھی ہالی وڈ کی کسی فلم کی طرح ہوگا؟
آسکر کے لیے نامزد ہونے والے سکرین رائٹر اور ڈائریکٹر فل جانسن نے، جو 'زوٹوپیا' اور 'ریک اٹ رالف' جیسی فلموں پر کام کر چکے ہیں، ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ہم اس بات کے عادی نہیں ہیں، کہ ہمیں فلم کے اختتام کے بارے میں صاف صاف اندازہ نہ ہو۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ’’لگتا ہے کہ سب ہی نے اپنی اپنی فلم کی ایک کہانی بُن لی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں ایک لمبے عرصے پر محیط کئی اختتام ہوں سکتے ہیں۔ ایک دن کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے، اپنا ماسک اتارتا ہے، ریستوران پر بیٹھے ہوئے اسے خیال آتا ہے کہ ’اوہ، زندگی اب ایسی ہے، یہ تو معمول پر آ گئی ہے۔‘‘