پاکستان میں جون 2020 کے بعد ریکارڈ کیسز
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4974 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کیسز کی یہ تعداد جون 2020 کے بعد سب سے زیادہ یومیہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا کے شکار 98 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 14 ہزار 530 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں اب تک چھ لاکھ 72 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور شفا یاب مریضوں کی تعداد چھ لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں اب بھی تین ہزار سے زیادہ مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 50 ہزار 55 افراد کے کرونا ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔
کرونا ویکسین بچوں کے لیے بھی مؤثر ہے: فائزر
فائزر نے اعلان کیا ہے کہ اس کی تیار کی گئی کرونا ویکسین 12 سال کے بچوں کے لیے بھی مؤثر اور محفوظ ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق فائزر کے اس اعلان کے بعد ممکنہ طور پر بچوں کو بھی ویکسین لگانے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
دنیا بھر میں جو بھی کرونا ویکسین تیار کی گئی ہے یہ صرف بالغ افراد کو لگائی جا رہی ہیں۔ کیوں کہ بالغ افراد کے وبا سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق فائزر کی ویکسین 16 سال یا اس سے زائد عمر کو لگائی جا سکتی ہے۔ البتہ ہر عمر کے افراد کو ویکسین لگانا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اہم ہے۔ جب کہ کم عمر افراد کو ویکسین لگانے سے تعلیمی سرگرمیوں کی مکمل بحال بھی ممکن ہے۔
امریکہ میں ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق 12 سے 15 برس کی عمر کے 2260 رضا کاروں کو ویکسین دی گئی۔ اعداد و شمار سے واضح ہوا جن کو ویکسین کی مکمل ڈوز دی گئی وہ وائرس سے محفوظ رہے۔
سندھ میں شادی ہال بند، کاروبار آٹھ بجے تک جاری رکھنے کی اجازت
سندھ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
محکمۂ داخلہ سندھ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبے میں شادی ہال چھ اپریل سے بند کر دیے جائیں گے۔ جب کہ سندھ بھر میں کاروباری مراکز صبح چھ سے رات آٹھ بجے تک کھلیں گے۔
حکام کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں میں ایک دن نصف عملے کو طلب کیا جائے جب کہ دوسرے دن باقی نصف عملے کو طلب کیا جائے۔
جلسے، جلوسوں اور سماجی تقریبات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق نئے ایس او پی 11 اپریل تک نافذِ عمل رہیں گے۔
- By یوسف جمیل
بھارتی کشمیر میں کیسز میں ایک بار پھر اضافہ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کرونا وائرس کے مُثبت کیسز میں ایک بار پھر اضافے کے باعث کئی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں ضلع مجسٹریٹس کو اضافی اختیارات دینا بھی شامل ہے۔
مجسٹریٹس اپنی صوابدید کے مطابق ہر قسم کے اجتماعات پر، جن میں مساجد اور دوسری عبادت گاہوں میں ہونے والے اجتماعات بھی شامل ہیں، پابندی عائد کر سکیں گے یا ان میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد محدود کی جا سکے گی۔
تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کو ایک بار پھر آن لائن رکھنے کو پسندیدہ قرار دیدیا گیا ہے۔ بدھ کو ضلع بڈگام کے دو اسکولوں اور ضلع بانڈی پور کے ایک اسکول کو دو اساتذہ اور تین طلبہ کے وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کے بعد بند کر دیا گیا۔
منگل کو کرونا وائرس کے 359 نئے مثبت کیسز سامنے آئے تھے جو امسال ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ۱یک لاکھ تیس ہزار 587 تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ1992 اموات ہو چکی ہیں۔
بھارتی حکام نے بدھ کو بتایا کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے میں وائرس کے 53 ہزار 480 نئے کیسز سامنے آئے۔ جب کہ اس دوران 354 اموات ہوئیں۔
بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد ایک کروڑ 21 لاکھ 49 ہزار 335 ہے۔ جب کہ ایک لاکھ 62 ہزار 428 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔