وبا کے باعث ایک لاکھ ملاح کھلے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں
کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق تجارتی مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر سوار ایک لاکھ کے قریب ملاح سمندری پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان ملاحوں کی مدد کے لیے ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس پر دستخط کرنے والے اسے ایک ایسا انسانی بحران قرار دے رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں ضروری اشیا کی رسد اور ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس مہم کے ارکان نے دنیا بھر میں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مال بردار بحری جہازوں پر کام کرنے والے 16 لاکھ ملاحوں کا حوصلہ بڑھائیں۔ انہیں سرحدوں کے آر پار جانے کی اجازت دیں اور ترجیحی بنیادوں پر انہیں ویکسین فراہم کی جائے۔
واضح رہے کہ دنیا کا 80 فی صد تجارتی سامان سمندری راستوں سے اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔
کرونا بحران نے مذہبی مقامات کی سیاحت کو کیسے متاثر کیا؟
کرونا وبا کی وجہ سے اسرائيل نے سیاحوں پر فضائی پابندياں برقرار رکھنے کا فيصلہ کيا ہے جس کے باعث دنيا بھر سے آنے والے مسيحی زائرين اس سال ايسٹر پر مقدس سر زمين پر واقع تاریخی مقامات کی زیارت نہيں کر پائيں گے۔ مزید دیکھیے اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں 50 ہزار ٹیسٹ، مثبت آنے کی شرح 9.4 فی صد
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 84 افراد ہلاک جب کہ 4723 متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مزید 84 افراد کے ہلاک ہونے کے بعد مجموعی اموات 14 ہزار 697 ہو گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مزید 50 ہزار 186 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 9.4 فی صد رہی۔ یوں متاثرہ افراد میں مزید 4723 کا اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 58 ہزار پانچ سو ہو گئی ہے۔
چین: سرحدی شہر کی پوری آبادی کی ویکسی نیشن کا آغاز
چین کے میانمار کی سرحد سے متصل شہر رلی میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے تمام شہریوں کو ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ پورے شہر کو پانچ روز میں ویکسین لگانے کا عمل مکمل کر لیں گے۔ شہر کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ کے قریب ہے۔
رلی میں اب تک کرونا وائرس کے 16 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے باعث پورے شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔
چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 59 ہزار ویکسین کی خوراکیں رلی لائی جا چکی ہیں۔ جب کہ ویکسی نیشن کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔
حکام نے میانمار سے متصل سرحد پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں جس کے باعث لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔