کیا وبا کے بعد بھی ٹیلی ورک یا گھر سے کام کا سلسلہ جاری رہے گا؟
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد امریکی کاروباروں نے بڑے پیمانے پر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد امریکہ میں پچھلے برس ساڑھے سات کروڑ افراد گھر سے کام کرتے رہے۔ وبا سے پہلے امریکہ میں یہ تعداد محض 50 لاکھ تھی۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس صورتحال میں تبدیلی شاید ممکن نہ ہو کیونکہ مالکان اور ملازمین، دونوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ گھر سے بھی موثر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے۔
رینسیلر پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کے ٹموتھی گولڈن نے وائس آف امریکہ کی ڈورا میکوئیر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’عالمی وبا نے ہمارے ٹیلی ورک، یا گھر سے کام کو دیکھنے کے نظریے کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ذہن تبدیل ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سی ثقافتی اور سماجی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں جن میں ہمارے کام کرنے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں۔ بہت سے افراد اور کمپنیوں کو اندازہ ہوا ہے کہ ہم دور بیٹھ کر بھی موثر انداذ میں کام کر سکتے ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ گھر سے بیٹھ کر کام مستقل بنیادوں پر موجود رہے گا۔‘‘
بہت سی کمپنیاں اس عالمی وبا کے بعد اپنے ملازمین سے کام لینے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کمپنیاں مخلوط نظام متعارف کروائیں گی جس میں کچھ لوگ تو دفتروں میں واپس جا کر کام کریں گے جب کہ کچھ لوگ گھروں سے ہی کام جاری رکھیں گے یا پھر کبھی آفس اور کبھی گھر سے کام کریں گے۔
لوگوں کو کرونا ویکسین لگوانے پر کیسے قائل کیا جائے؟
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لینے میں مزاحمت کے وبا کی روک تھام پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں اور ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات رکھنے والوں کو کیسے قائل کیا جائے؟ جانتے ہیں ڈاکٹر ناسیا صفدر سے ارم عباسی کی گفتگو میں۔
بھارت میں پانچ ماہ بعد ریکارڈ یومیہ اموات
بھارت میں ہفتے کو کرونا وبا کے سبب پانچ ماہ بعد ریکارڈ یومیہ 794 اموات رپورٹ کی گئیں۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک لاکھ 45 ہزار افراد میں وبا کی تشخیص کی گئی جس کے بعد بھارت میں اس مہلک وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ 32 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹرا میں کیسز میں اضافے کے سبب ہفتے اور اتوار پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی طرف سے کیسز میں اضافے کی وجہ لوگوں کا احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا قرار دی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت کی اکثر ریاستوں کی طرف سے کرونا ویکسین کی کمی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
فرانس میں دو الگ الگ ویکسین کی خوراکیں دینے کا اعلان
فرانس نے اعلان کیا ہے کہ 55 سال سے کم عمر والے افراد جنہیں ‘ایسٹرا زینیکا’ کی پہلی خوراک لگائی گئی تھی، انہیں ویکسین کی دوسری خوراک ‘فائزر بائیو این ٹیک’ یا ‘موڈرنا’ کی تیار کردہ ویکسین کی لگائی جائے گی۔
وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق 55 سال سے کم عمر والے افراد جنہوں نے ایسٹرا زینیکا کی پہلی خوراک لگوائی تھی ان میں سے بہت کم تعداد میں بلڈ کلوٹس (خون کے لوتھڑے) آنے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔
فرانس میں ابتدائی طور پر طبی اہلکاروں کو کرونا ویکسین لگائی گئی تھی اور اس فیصلے سے لگ بھگ پانچ لاکھ 33 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔
خیال رہے کہ فرانس میں ویکسین لگائے جانے کے عمل میں سست روی کے بعد تیزی دیکھی جا رہی ہے۔