اسکول جانا ہے، کھیلنا کودنا ہے: کرونا بحران سے بچے بھی تنگ
کرونا وائرس کے اس دور میں ہر شخص کو مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ بچوں کے روز مرہ معمولات بھی وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اسکولوں سے دور اور گھروں تک محدود بچے عالمی وبا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ جانیے اسلام آباد سے گیتی آرا انیس کی رپورٹ میں۔
پنجاب کی وزیرِ صحت کی احتجاج میں ایمبولینسز کو راستہ دینے کی ایپل
پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپیل کی ہے کہ احتجاج کے دوران ایمبولینسز کو مریضوں کو لے جانے اور اسپتال جانے والوں کو راستہ دیا جائے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق بعض ایمبولینسز میں آکسیجن سیلنڈرز ہوتے ہیں جو کہ کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما کی گرفتاری کے بعد دھرنے دیے گئے تھے جس میں اہم شاہراہیں بند کر دی گئی تھیں۔
سندھ میں ہوٹل رات 10 بجے بند ہوں گے
محکمۂ داخلہ سندھ نے کرونا وائرس کے حوالے سے نیا اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق 16 مئی تک ہو گا۔
نئے اعلامیے کے تحت کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا جائے گا جہاں وبا کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح آٹھ فی صد سے زائد ہو گی۔
اسی طرح ہوٹلوں کے لیے آؤٹ ڈور کھانے کی سروس رات 10 بجے تک اور اس کے بعد ٹیک اوے کی اجازت گی۔
کاروباری مراکز، شاپنگ مال، شادی ہال وغیرہ ہفتے میں پانچ دن صبح چھ سے رات آٹھ بجے تک کھلے ہوں گے جب کہ اتوار اور جمعے کو تمام کاروباری مرکز بند ہوں گے۔
صوبے میں ہر قسم کے سماجی، سیاسی، ثقافتی، مذہبی اجتماعات پر پابندی ہو گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینما گھر، پارک اور درگاہیں بھی مکمل بند ہوں گی۔
محکمۂ داخلہ نے سرکاری اور نجی دفاتر کو پابند کیا ہے کہ وہ روزانہ صرف 50 فی صد اسٹاف کو دفاتر میں بلائیں گے۔
محکمۂ داخلہ کے مطابق بند مقامات کے ساتھ ساتھ کھلی جگہوں پر بھی سماجی دوری برقرار رکھنی ہو گی جب کہ ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے: اسد عمر
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پیر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے دوران وبا کے پھیلاؤ، اسپتالوں میں گنجائش اور پابندیوں سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورتِ حال اب بھی بہت نازک ہے اور اسپتالوں پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
اسد عمر کے مطابق حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرائیں تاکہ کسی بحران سے محفوظ رہا جا سکے۔