وائرس سے چھٹی، مالدیپ میں رئیس بھارتیوں کی آمد جاری
بحر ہند میں ایک ہزار چھوٹے جزیروں پر مشتمل ملک مالدیپ میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے بالی ووڈ کے ستاروں سمیت رئیس بھارتی شہریوں کی آمد جاری ہے۔
مالدیپ نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں پچھلے برس تین ماہ تک بند رکھنے کے بعد جولائی میں کھول دی تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملک میں ابھی تک آنے والے سیاحوں میں زیادہ اکثریت کا تعلق بھارت سے ہے۔
اس ہفتے جہاں دنیا کے دیگر ممالک نے بھارت سے فلائیٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے، مالدیپ نے بھارت سے آنے والے سیاحوں کی آمد کو ممکن بنانے کے لیے اپنے قواعد و ضوابط میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔
ان تبدیلیوں میں سیاحوں کو تفریح گاہوں اور سفاری بوٹس تک محدود رکھنا شامل ہیں۔ سیاحوں کو ان گیسٹ ہاؤسز میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی جن کے گرد مقامی آبادی موجود ہے۔
مالدیپ کی سیاحتی اتھارٹی وزٹ مالدیوز کے سربراہ طیب محمد نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے چھوٹے چھوٹے جزیروں کا جغرافیہ ہمیں وائرس کے خطرے سے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘
امریکہ کرونا بحران کے باعث بھارت سے سفرکو محدود کر رہا ہے: امریکی عہدیدار
بھارت میں کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بائیڈن انتظامیہ بھارت سے امریکہ آںے والی پروازوں کو عارضی طور پر منگل چار مئی سے محدود کر رہی ہے۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے مطابق، وائٹ ہاوس کے ایک عہدیدار نے جمعے کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے بعد بھارت میں کووڈ نائینٹین کی مختلف اقسام کے عام ہونے اور انتہائی غیر معمولی طور پر بگڑتی ہوئی صورتحال کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل، بھارت کو کرونا بحران میں اہم طبی رسد فراہم کرنے کے لئے امریکی امدادی جہاز جمعے کے روز نئی دہلی پہنچا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق، امدادی سامان کی خصوصی پروازیں آئندہ ہفتے تک جاری رہیں گی، جن میں امریکی کمپنیوں اور افراد کی جانب سے عطیہ کردہ سامان بھارت پہنچایا جائے گا۔ صدر جو بائیڈن نے کرونا وائرس سے نمٹنےکی بھارت کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
چار سو سے زائد آکسیجن سیلنڈر اور دیگر طبی سامان کے علاوہ کرونا وائرس کے فوری ٹیسٹ کی کٹس پر مشتمل یہ رسد لے کرامریکی سوپر گلیکسی عسکری ٹرانسپورٹ طیارہ نئی دہلی پہنچا ہے۔
امریکہ: مساجد میں نمازیوں کی گنجائش بتانے والی ایپس
کرونا وبا کے باوجود مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں بہت سی مساجد کھلی ہوئی ہیں۔ لیکن کئی ممالک میں نمازیوں کی تعداد محدود رکھنے کی پابندی کے باعث یہ ضروری نہیں کہ مسجد جانے والے ہر شخص کو جگہ بھی مل جائے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے امریکہ میں مساجد اور نمازی موبائل فون ایپلی کیشن کا سہارا لے رہے ہیں۔
بھارت میں وبا کے تیز پھیلاؤ کی وجہ کیا وہاں سامنے آنے والی کرونا کی نئی قسم ہے؟
بھارت میں رواں ماہ کے دوران دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تیزی سے کرونا وائرس وبا پھیلنے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ کیسز میں اضافے کے باعث دارالحکومت دہلی اور ممبئی کے اسپتالوں میں بستروں، دواؤں اور آکسیجن کی قلت ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سائنس دان بھارت میں وبا کے اس تیز ترین پھیلاؤ کی وجوہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر اس سوال کا جواب تلاش کیا جا رہا ہے کہ وبا کی اس شدت کے لیے حال ہی میں بھارت میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کو کتنا ذمے دار ٹھیرایا جا سکتا ہے۔
بھارت میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم یا ’ویرینٹ بی ون سکس ون سیون‘ (B.1.617) کے کیسز اب تک 17 ممالک میں سامنے آ چکے ہیں اور اس حوالے سے ماہرین کو مختلف خدشات کا سامنا ہے۔