کوویکس کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی فراہمی
پاکستان میں بیرون ممالک سے کرونا ویکسین کی آمد جاری ہے اور ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے پہلی کھیپ وصول کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات برطانیہ کے سفیر کرسچن ٹرنر بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پہلی کھیپ میں 12 لاکھ 38 ہزار 400 افراد کے لیے ویکسین ہے۔ جس کے بعد چند دنوں میں 12 لاکھ 36 ہزار افراد کے لیے مزید ویکسین پاکستان پہنچ جائے گی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ اس غیر معمولی بحران میں، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پاکستان میں کرونا وائرس سے لڑنے کی اجتماعی کوششوں میں ’کوویکس‘ کے تعاون کو تہہ دل سے سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویکسی نیشن مراکز میں ایک دن میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ویکسین کے انجکشن لگ رہے ہیں اور بہت جلد یومیہ پانچ لاکھ افراد کو ویکسین دینے کے قابل ہو جائیں گے۔
پاکستان میں کرونا ویکسین بنانے کا پلانٹ تیار، ماہانہ 30 لاکھ خوراکوں کی پیداوار کا امکان
وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا ویکسین پراسیس ہونے کے بعد ماہانہ تیس لاکھ ویکسین کی خوراکیں پاکستان کے اندر تیار ہونا شروع ہو جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان میں بیرون ممالک سے ویکسین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی 12 لاکھ خوراکوں کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔
وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں پلانٹ گزشتہ ماہ ہی قائم کیا گیا ہے اور اب وہاں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ مئی کے آخر میں ویکسین کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد چین کی تیار کردہ ویکسین پاکستان میں ہی تیار ہونے لگے گی اور پاکستان کو ماہانہ تیس لاکھ خوراکیں صرف این آئی ایچ میں قائم کردہ اس پلانٹ سے دستیاب ہوں گی۔
ملک بھر میں بازار بند، بعض شہروں میں پابندیوں کی خلاف ورزی
کرونا وبا کے پیش نظر سندھ کے علاوہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی (این سی او سی) کی ہدایت پر مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے جب کہ سندھ میں ہفتے کو خریداری کا آخری دن ہے اور شام سے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں آئندہ ہفتے 13 یا 14 مئی کو عیدالفطر منائی جائے گی۔ وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 10 سے 15 مئی تک چھٹیوں کا اعلان کیا گیا۔ لیکن عملی طور پر چھٹیوں کا آغاز ہفتہ آٹھ مئی سے ہی ہو گیا ہے اور حکومت نے بھی آٹھ سے 16 مئی تک ملک میں مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان چھٹیوں کے دوران بینک بھی بند کر دیے جائیں گے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کی ملک بھر میں برانچیں آٹھ مئی کو صبح نو سے دوپہر دو بجے تک بغیر کسی وقفے کے کھلی رہیں گی جس کے بعد بینک بھی 8 روز کے لیے بند ہو جائیں گے۔
پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف شہروں میں مثبت کیسز کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں چار ہزار 298 افراد وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ 140 اموات رپورٹ ہوئیں۔
این سی او سی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مقصد پاکستان کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک محدود کرنا ہے تاکہ کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بڑھتے کیسز کی تعداد پر قابو پایا جا سکے۔
کیا کرونا ویکسین پر بڑے ممالک کی اجارہ داری ختم ہو سکے گی؟
امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی برادری اور اپنی پارٹی کی جانب سے دباؤ کے بعد کرونا وائرس کی ویکسین کو پیٹنٹ سے مستثنی کرنے کی حمایت کی ہے جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مختلف ممالک کرونا ویکسین خود بنا کر اپنی ضرورت پوری کر سکیں گے۔ تفصیلات جانتے ہیں ارم عباسی سے۔