کیا ویکسین ڈپلومیسی چین کا اثر و رسوخ بڑھائے گی؟
جنوبی ایشیا کے ممالک کرونا وائرس کی ویکسین کے لیے اب چین سے رجوع کر رہے ہیں کیوں کہ بھارت نے ویکسین کی برآمد معطل کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے بیجنگ کو اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مدد ملے گی جہاں وہ طویل عرصے سے اس کی تگ و دو کر رہا ہے۔ مزید تفصیلات اس رپورٹ میں۔
ایشیا بحرالکاہل خطے میں مہاجرین کو ویکسین کے حصول میں مشکلات
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل خطے میں کووڈنائنٹین سے بچاؤ کی ویکسین کی قلت کے باعث لاکھوں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو عالمی وبا کی نئی لہر کے دوران جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق خطے میں کرونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کو اپنی اپنی ویکسینیشن مہم میں شامل کریں گے لیکن معروضی حقائق بتاتے ہیں کہ وہاں ویکسین کی شدید قلت ہے۔
اس لیے ان ممالک نے ایسے لوگوں کو، جو پہلے ہی سے قومی دھارے سے باہر ہیں، انہیں ویکسین لگانے کے عمل میں سب سے آخر میں رکھا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایشیا بحرالکاہل میں گزشتہ دو ماہ میں کووڈ نائنٹین کے تین کروڑ 80 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ پانچ لاکھ افراد اس موذی مرض سے اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
خٓطے میں مہاجرین اور پناہ گزین عام طور پر تنگ جگہوں پر رہتے ہیں، جہاں ضفائی ستھرائی کا مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں کووڈ نائنٹین لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان آندرے ماہسک نے بتایا کہ بنگلادیش کے کاکسز بازار میں رہنے والے روہنگیا مہاجرین کے کھچا کھچ بھرے کیمپوں میں اپریل کے بعد کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
مئی کے اختتام تک 1188 مہاجرین میں کووڈ نائنٹین کی تشخیص ہوئی تھی۔
بائیڈن کا امریکیوں کو ویکسین لگوانے کے لیے ہنگامی مہم کا اعلان
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کرونا ویکسین لگوانے والوں اور نہ لگوانے والوں کی تفریق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں نہیں چاہتا کہ امریکہ جو پہلے ہی تقسیم کا شکار ہے، ایک اور قسم کی تقسیم کا شکار ہو جائے"۔ انہوں نے بدھ کو یہ بات کرونا وائرس کی ویکسین سے متعلق نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔
وائس آف امریکہ کے اسٹیو ہرمن کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اس تقسیم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ "وہ جگہیں، جہاں لوگ کووڈ کے خوف سے آزاد ہو کر زندگی گزار رہے ہوں، اور وہ جگہیں، جہاں موسم خزاں شروع ہوتے ہی موت اور سنگین مرض واپس آجائے"۔
بائیڈن نے یہ واضح کرتے ہوئے کہ ویکسین کی تیاری امریکہ کی دونوں جماعتوں کے دور حکومت میں ہوئی، یہ بھی کہا کہ "ویکسین لگوانا کوئی جانبدارانہ عمل نہیں ہے۔ ہمیں ایک امریکہ کے طور پر متحد ہونا چاہئے، جہاں کوئی خوف نہ ہو"۔
اس سے قبل بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ کی 63 فی صد آبادی نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوا لی ہے، جب کہ امریکہ میں انتظامیہ کی بھرپور ویکسین مہم کی وجہ سے 40 سال سے زائد عمر کے 72 فی صد افراد کو کرونا ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
علما ویکسین کی افادیت سے عوام کو آگاہ کریں، صدر عارف علوی
پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ علما کرام نے کرونا ویکسین کے اجزائے ترکیبی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور وہ لوگوں کو اس کے محفوظ ہونے سے متعلق آگاہی بھی دیں گے۔
بدھ کو ملک بھر سے بذریعہ ویڈیو لنک علما اور مشائخ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ویکسین لگوانے پر عوام الناس کو ترغیب دلانے کے لیے علما و مشائخ مساجد، امام بارگاہوں، خانقاہوں اور مدارس سے مؤثر اور مثبت آواز بلند کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں آئندہ جمعے یعنی چار جون کو علما کرام مساجد عوام کو ویکسین لگوانے کی خصوصی تلقین کریں گے جب کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔