افغانستان کو ویکسین کی فراہمی میں تاخیر
افغانستان میں حکام کو مطلع کیا گیا ہے کہ عالمی ادارہٴ صحت کی طرف سے اپریل میں فراہم کی جانے والی کرونا ویکسین کی کھیپ رواں سال اگست سے پہلے فراہم نہیں کی جا سکتی۔
افغان وزارتِ صحت کے ترجمان غلام دستگیر نظاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف سفارت خانوں سے مدد کے لیے رابطہ کیا تاہم انہیں کرونا ویکسین نہیں ملی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کرونا بحران کے درمیان میں پھنس گئے ہیں۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق افغانستان میں اب تک 76 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ تین ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
بھارت کی بعض ریاستوں میں پابندیوں میں نرمی
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز میں کمی رپورٹ کیے جانے کے بعد کچھ ریاستیں پابندیوں میں نرمی کر رہی ہیں۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک لاکھ 20 ہزار 529 کیسز رپورٹ کیے گئے جو کہ لگ بھگ دو ماہ کے دوران رپورٹ کیے جانے والے یومیہ کیسز کی کم ترین تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو بھارت میں وبا کے سبب تین ہزار 380 اموات ہوئیں جس کے بعد اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ 44 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں اب تک دو کروڑ 86 لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
ہنگری میں 53 فی صد آبادی کی ویکسی نیشن، شادی کی تقاریب پر عائد پابند ختم
یورپ کے ملک ہنگری میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر شادی کی تقاریب منعقد کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے اور اس موسم گرما میں جوڑے اپنی شادی کی تقریبات منعقد کر سکیں گے۔
ہنگری میں 53 فی صد آبادی کو کرونا ویکسین لگائی جا چکی ہے جس کے بعد شادی کی تقریبات پر عائد پابندی ہٹائی گئی ہے۔
شادی کی تقاریب منعقد کرنے والے گیبر ہرنڈی، جو کہ سالانہ 30 سے 35 تقریبات منعقد کراتے ہیں، کا کہنا ہے کہ 2020 میں 70 فی صد شادیاں ملتوی ہوئیں۔
فرانس: اورنج درجے میں شامل ممالک کے مسافروں کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار
فرانس نے اعلان کیا ہے کہ ایسے ممالک جہاں کرونا وبا اورینج درجے پر ہے جیسے برطانیہ اور امریکہ ان ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے فرانس آمد سے قبل کرونا ویکسین لگوانا لازمی ہو گا۔ انہیں حال ہی میں کیے گئے کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ بھی پیش کرنی ہو گی۔
فرانس کے یورپین افیئرز کے وزیر سلیمنٹ بیونی کا جمعے کو کہنا تھا کہ نئے قواعد جن کا اطلاق رواں ماہ 9 جون سے ہو گا، اورینج درجے میں شامل ممالک سے فرانس آنے والے ایسے مسافر جنہیں کرونا ویکسین نہیں لگی ہو گی انہیں فرانس آنے کی ٹھوس وجوہات بتانی ہوں گی جیسے قانونی کیس یا بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ۔
وبا سے متاثرہ اورینج درجے میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں وبا کا پھیلاؤ بدستور جاری ہے یا کرونا وائرس کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں۔
فرانس آنے والے ان ممالک کے مسافروں کے لیے، جو گرین درجے میں شامل ہیں، کے لیے قدرے آسان قواعد ہوں گے جن میں یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک کے علاوہ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، اسرائیل، جاپان، لبنان، نیوزی لینڈ اور سنگاپور شامل ہیں۔