خیبرپختونخوا: کرونا سے مالی طور پر متاثرہ فن کاروں کی مدد کا منصوبہ
کرونا وبا نے پاکستان میں فن و ثقافت کے شعبے کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ خیبرپختونخوا صوبے کی حکومت ثقافتی سرگرمیوں کو جلد بحال کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتی، البتہ فن کاروں کی مالی مدد کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ مزید بتا رہے ہیں پشاور سے نذرالاسلام اپنی اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں مزید 46 اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 46 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران 42 ہزار 113 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار 38 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 2.46 فی صد رہی ہے۔
ملک میں کرونا سے اب تک 21 ہزار 828 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد نو لاکھ 44 ہزار 65 ہے۔
کرونا ویکسین کی زائد خوراک جسمانی اعضا کی پیوندکاری کے حامل افراد کے لئے مفید: تحقیق
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی مقررہ مقدار سے زائد خوراک ان مریضوں کی کرونا وائرس سے حفاظت میں معاون ثابت ہوتی ہے جن کے جسمانی اعضا کی پیوند کاری یعنی ٹرانسپلانٹ ہو چکا ہو۔ یہ بات ایک مختصر طبی تحقیق سے سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جہاں بہت سے لوگ ویکسین لگوانے کے بعد روزمرہ زندگی کے معمولات کی طرف لوٹ رہے ہیں، وہاں ایسے افراد جو جسمانی اعضا کے ٹرانسپلانٹ ہونے، کینسر یا دوسری وجوہات سے قوت مدافعت کو کم کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ویکسین لگنے کے بعد بھی وہ کتنے محفوظ رہیں گے۔ کیوں کہ کسی بھی ویکسین کے لیے کمزور قوت مدافعت کو بروئے کار لانا مشکل ہو گا۔
پیر کے روز سامنے آنے والی اس تحقیق میں ٹرانسپلانٹ کے صرف 30 مریضوں کو شریک کیا گیا تھا۔ لیکن یہ مستقبل میں مزید تحقیق کے لیے اچھا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
کرونا وبا کے دوران عمر رسیدہ لوگوں کےخلاف زیادتیوں میں اضافہ
عمر رسیدہ افراد کو کوویڈ نائنٹین کی عالمی وبا کے دوران تشدد، بدسلوکی اور نظرانداز کرنے جیسے ناروا رویوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو ہیلتھ سینٹرز، ہوم کیئر سنٹرز اور حتّیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔
بزرگوں کے خلاف بد سلوکی سے آگاہی کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی آزادانہ طور پر خدمات انجام دینے والی ماہر برائے انسانی حقوق کلاڈیا ماہلر نے کہا کہ انہیں دنیا کے مختلف حصوں سے پریشان کن رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ کس طرح عمر رسیدہ شہریوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی اور ان کے سماجی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے بزرگ شہریوں کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔