ڈیلٹا ویرینٹ کے باعث ایران میں وائرس کی نئی لہر کا خدشہ
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کے باعث ملک میں وائرس کی پانچویں لہر کا خطرہ ہے۔
حکام کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر دارالحکومت تہران سمیت ملک کے 275 شہروں میں غیر ضروری کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہفتے کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ وائرس کی پانچویں لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ لہذٰا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔
ایران میں اب تک کرونا سے 84 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 29 اموات، 1228 نئے کیس
پاکستان میں کرونا وبا کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک میں کرونا کے مزید 1228 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد نو لاکھ 62 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں 1875 مریض انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 897 مریض کرونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا سے اب تک مجموعی طور پر 22 ہزار 408 اموات ہو چکی ہیں۔
سندھ میں پابندیوں میں مزید نرمی
سندھ میں حکومت نے کرونا کیسز میں کمی کے باعث عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے کاروباری اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دیے ہیں۔
نئے احکامات کے تحت کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں کو ریستورانوں میں انڈور بیٹھنے کی اجازت ہو گی۔
حکومت سندھ کے انفارمیشن سیل کے مطابق ہوٹلز، ریستورانوں کیفیز کو صارفین کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے رات 12 بجے تک انڈور اور آؤٹ ڈور کھانے کی اجازت ہو گی۔
انفارمیشن سیل کی ٹوئٹ کے مطابق ریستورانوں میں 50 فی صد گنجائش کے ساتھ ویکسین لگوانے والے افراد کو بٹھانے کی اجازت ہو گی۔
اس کے علاوہ ویکسین لگوانے والے افراد کے لیے سنیما اور تھیٹرز رات ایک بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی۔
چین کی کرونا ویکسین کی افادیت پر اٹھتے سوالات، پاکستان کیا کرے؟
دنیا کے لگ بھگ 90 ممالک میں چین کی کمپنیوں کی تیار کردہ کرونا ویکسین استعمال ہو رہی، جس کی افادیت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجکس کے سابق ڈائریکٹر عبد الصمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار نیلوفر مغل سے گفتگو میں کیا ہے۔ جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔