امریکہ: ویکسین کارڈ کی جعل سازی، تعلیمی اداروں کے حکام پریشان
امریکہ میں کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے پھیلاؤ کے باعث یونی ورسٹی اور کالجوں کے طلبا کو اپنے تعلیمی اداروں میں ہونے والی کلاسز میں شرکت کے لیے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کا ثبوت پیش کرنے کا پابند بنایا جارہا ہے۔
لیکن طلبا، تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام سے کیے گئے انٹرویوز سے یہ معلوم ہوا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ویکسین کارڈ کی شرط کے بعد سے ویکسین لگانے کی مخالفت کرنے والے بعض افراد جعل سازی کا راستہ بھی اختیار کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے اپنی ایک رپورٹ کے لیے درجنوں طلبا اور اساتذہ کے انٹرویوز کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ جعلی ویکسین کارڈ حاصل کرنا آسان ہے۔
رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر ویکسین کارڈ کی جعل سازی ایک چھوٹی صنعت بن چکی ہے اور جعل ساز کسی ذاتی یا مذہبی وجہ سے ویکسین نہ لگوانے والوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
لوئزیانا: کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی شرح میں اچانک اضافہ
امریکہ کی ریاست لوئزیانا میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے والوں کی شرح میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
لوئزیانا میں انتہائی سست روی سے جاری ویکسی نیشن مہم میں تیزی پیدا کرنے کے لیے مقامی حکومت کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی لاٹری کا اعلان بھی شہریوں کو متحرک کرنے میں ناکام رہا تھا۔
مگر گزشتہ ہفتوں کے دوران ڈیلٹا ویریئنٹ کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب شہریوں کی بڑی تعداد از خود ویکسی نیشن سینٹرز کا رخ کر رہی ہے۔
وائس آف امریکہ کے اسٹیو باراگونا کی رپورٹ کے مطابق شہریوں کو ویکسین لینے کی ترغیب دینے کے لیے ریاست کے بہت سے شراب خانوں نے 'شاٹ فار اے شاٹ' یعنی ویکسین لگوانے پر مفت مہ نوشی جیسی سہولت کا بھی اعلان کیا ہوا ہے جسے خاطر خواہ عوامی پذیرائی نہیں مل پائی۔
کرونا کی نئی اقسام پاکستان کے لیے کتنا بڑا چیلنج؟
پاکستان آج کل کرونا وائرس کی چوتھی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ اس وقت پاکستان میں کووڈ کی دو نئی اقسام 'ڈیلٹا' اور 'ایپسی لون' مزید تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ کرونا وائرس کی یہ نئی اقسام کیسے پاکستان میں طبی حکام کے لیے چیلنج بن رہی ہیں؟ جانتے ہیں گیتی آرا انیس کی رپورٹ میں۔
فیس بک کی ویکسین سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر کے خلاف کارروائی
فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے کرونا ویکسین سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے اس آپریشن کا قلع قمع کر دیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا انفلوئنسر کی مدد سے غلط معلومات کی تشہیر کی جا رہی تھی۔
فیس بک نے منگل کو جاری بیان میں بتایا ہے کہ ویکسین کے خلاف اس مہم کو روس کی ایک مارکیٹنگ کمپنی 'فزی' چلا رہی تھی جس کے لیے نامور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا سہارا لیا جا رہا تھا۔
فیس بک نے مزید بتایا ہے کہ اس نے جولائی میں اپنے پلیٹ فارم سے 65 ایسے سوشل اکاؤنٹس ختم کیے ہیں جو غلط معلومات کی تشہیر میں مصروف تھے جب کہ انسٹاگرام کے 243 اکاؤنٹس کو ویکسین سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والی روس کی مارکیٹنگ کمپنی سے تعلق کے بعد بند کیا گیا ہے۔