نیویارک میں 800 پولیس اہلکار وائرس میں مبتلا، 5000 قرنطینہ میں
نیویارک میں پولیس اہلکار کرونا وائرس سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ آٹھ سو سے زائد اہل کار اس کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے ہیں۔
نیویارک پولیس کمشنر ڈرموٹ شئے نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس افسران ہیلتھ کیئر ورکرز کی طرح فرسٹ ریسپانڈرز ہیں جو کرونا وائرس کی اطلاع پر فوری موقع پر پہنچتے ہیں اور مریضوں کی امداد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران گزشتہ دو دنوں میں بڑی تعداد میں پولیس افسران بھی انفیکشن کا شکار ہوئے۔ وائرس کے باعث اب تک تین پولیس افسران ہلاک ہو چکے ہیں۔
پولیس کمشنر ڈرموٹ شئے کے مطابق محکمہ کے لگ بھگ چودہ فیصد افسران چھٹی پر چلے گئے ہیں جب کہ کرونا سے متاثرہ تقریباً پانچ ہزار اہل کاروں کو قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے سب زیادہ متاثرہ شہر نیویارک ہے۔ گورنر نیویارک اینڈریو کو مو نے پیر کو بتایا کہ اس شہر میں اب تک ساڑھے 33 ہزار سے زائد کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 1200 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
ریاست کے گورنر نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نیویارک آ کر اس بحرانی صورت حال میں لوگوں کی مدد کریں جہان کل 67 ہزار مریضوں میں سے نصف کرونا انفکشن میں مبتلا ہیں۔
شام کے بے سہارا باشندے کرونا وائرس کا آسان ہدف
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم شامی باشندے اپنے وطن میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ اس مہم کا آغاز فٹبالر کاوا ہیسو نے سوشل میڈیا پر اپنے ملک میں کرونا وائرس کے متعلق آگاہی پیدا کر نے سے کیا تھا، لیکن اب ان کی اس مہم نے شام کے بے سہارا لوگوں کی امداد کے لئے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔
کاوا ہسو اس وقت ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے مجبور ہم وطنوں کے لئے اس مشکل گھڑی میں جو مہم چلائی تھی اس میں سیکڑوں شامی شامل ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ان کے بہت سے ساتھی کھلاڑیوں، آرٹسٹوں اور دوسری شخصیات نے اس کا مثبت جواب دیا ہے۔
شام کے شمال مشرق کے علاقے میں لاک ڈاون ہے اور ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔
اتوار کو شامی حکام نے بتایا کہ کرونا وائرس کے دس تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اس لئے کہ ملک میں جانچ پڑتال کے انتظامات محدود ہیں۔ حکام نے وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت کی بھی خبر دی ہے۔
پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا وائرس کے خلاف سرگرم
پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے آن لائن کنسورشیم کویڈ 19 ایجوکیشن پروگرام کے ترجمان اور رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلیٹی ممبر کاشف ظہیر کمبوہ نے کہا ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریحان یونس نے وی او اے کو بتایا کہ اس وقت یہ کنسورشیم یونیورسٹیز کے مختلف سائنسدانوں، ریسرچرز اور پروفیشنل پالیسی لابنگ کرنے والے افراد پر مشتمل ایک مضبوط گروپ بن چکا ہے جو خاموش سپاہیوں کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنسورشیم میں رفاہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی، رفاہ یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، نواب شاہ اور دیگر اداروں کے سینئر سائنسدان، ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا گروپ مختلف مقامات پر کرونا کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کو منسلک کرنے کے لیے اینڈروئیڈ ایپ تیار کر چکا ہے جس کے ذریعے تمام ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ معلومات اور اپنے تجربات شیئر کر سکیں گے۔ یہ ایپ ایک دو روز میں فعال ہو جائے گا۔
کاشف ظہیر کمبوہ نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کے اس آن لائن گروپ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم وینٹی لیٹرز کے قابل عمل ڈیزائن تیار کر چکی ہے جنہیں مقامی سطح پر کم لاگت سے بنایا جا سکتا ہے۔ سیالکوٹ میں جراحی کے آلات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی اس پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کے لئے تیار ہوگئی ہے۔
احتیاط نہ کی تو کرونا انفکشن بہت مہلک ثابت ہوگا، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکیوں کو سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطوں پر عمل کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہوا تو اموات بائیس لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کرونا وائرس ایک خوفناک عذاب ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس شرح میں صرف اسی صورت میں کمی آ سکتی ہے جب لوگ سماجی فاصلے کو قائم رکھیں اور دس افراد سے زیادہ کا اجتماع نہ ہو۔
انہوں نے کہا اگر ہم کوئی اقدام نہ کرتے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کرسکتی تھی۔ ہم اموات کی اس ممکنہ تعداد کو کم کرنے لیے کوشاں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کی سب سے زیادہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، اسی لیے کیسیز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ میں مرنے والوں کی تعداد بہت سے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ یہاں یہ شرح ایک اعشاریہ سات فیصد ہے۔