بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز 2300 سے متجاوز
بھارت میں کروناوائرس کے مثبت کیسیز کی تعداد 2301 اور ہلاکتوں کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 336 نئے کیسیز سامنے آئے اور 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے پانچ اپریل کو رات نو بجے نو منٹ تک اپنے موبائل کی ٹارچ یا موم بتی جلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
البتہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کی اس ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کا کوئی ویژن نہیں ہے۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ اور بے روزگار ہونے والے طبقات کی مالی معاونت کے ضمن میں دائر درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
کراچی میں مزید دو ہلاکتوں کی تصدیق
پاکستان کے صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل نے کراچی میں کرونا وائرس سے مزید دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ دونوں افراد میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 60 اور 80 سال ہیں۔ اور انہیں گردوں اور دل کے عارضے لاحق تھے۔
وزیر صحت کے مطابق دونوں مریضوں کے ٹیسٹ یکم اپریل کو مثبت آئے تھے۔ ان ہلاکتوں کے ساتھ ہی پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 37 ہو گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں 151 مریض قرنطینہ سے ڈسچارج
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم قرنطینہ میں داخل 151 مریضوں کو صحت مند قرار دے کر ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مشیر صحت اجمل وزیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ڈسچارج ہونے والے زائرین میں 121 گومل یونیورسٹی میں موجود تھے۔ 20 افراد ڈیرہ اسماعیل خان کے سرحدی علاقے درازندہ کے مرکز میں تھے۔ یہ تمام زائرین پچھلے سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں تفتان سے آئے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے انتظامی کمشنر جاوید مروت نے بتایا کہ ڈسچارج کیے جانے والے تمام زائرین کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان میں اکثریت افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع کرم سے ہے۔
ایران سے انے والے لگ بھگ 50 زائرین پشاور کے نواحی علاقے دوران پور کے شہید ذوالفقار علی بھٹو پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج میں قائم قرنطینہ کے خصوصی مرکز میں زیر علاج ہیں۔
ان لوگوں میں صحت مند افراد کو بھی آئندہ چند دنوں کے دوران اپنے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔
حکومتی ہدایات پر خیبرپختونخوا کی بیشتر مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے چند افراد ہی مساجد گئے۔ حکام نے لوگوں کو نماز جمعہ گھروں میں ہی ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
- By نذر الاسلام
لاک ڈاؤن کے باعث اسلام آباد کی سڑکیں اور بازار سنسان
اسلام آباد میں لال مسجد کی حدود میں جمعے کو تل دھرنے کی جگہ نہيں ہوتی تھی۔ ليکن اب لاک ڈاون کے باعث تمام ملحقہ سڑکيں ويران ہیں۔ مرکزی سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا ہے لیکن اشیائے خور و نوش کی دکانیں اور ميڈيکل اسٹورز کھلے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ماسک بيچنے والے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔