پاکستان میں تعمیراتی شعبے کے لیے سہولیات کا اعلان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک میں تعمیراتی شعبے کے لیے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن کا نہیں پوچھا جائے گا۔ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے۔
پیکج کے مطابق تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کی شرح فکس کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس شعبے کے ٹیکسوں کی مجموعی شرح کم ہوجائے گی۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فی صد ٹیکس کی رعایت دی جائے گی۔ ابتدائی طور پر اس اسکیم کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس معاف کیا جارہا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی اپنا مکان فروخت کرے گا تو اس سے کیپیٹل گین ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں سے مل کر سیلز ٹیکس میں کمی لا رہے ہیں۔ تعمیراتی سیکٹر 14 اپریل سے کھلے گا۔ تعمیرات سے متعلق تمام ودہولڈنگ ٹیکس واپس لیے جائیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس متاثرین کے لیے 150 ارب جاری کر دیے گئے ہیں۔ جس سے غریب طبقے کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت 1 کروڑ لوگ ابھی تک مالی مدد کے لیے رجوع کر چکے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف اس طریقے سے غریب طبقے کی مدد کرنا اور بقا ممکن نہیں۔ کرونا ریلیف فنڈ سے 40 لاکھ افراد کو چند روز میں چیک ملنا شروع ہو جائیں گے۔ ہم یہ فنڈ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یہ سوچ خطرناک ہے، ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنی ہو گی۔ یہ بہت خظرناک وائرس ہے کوئی نہیں کہہ سکتا یہ کتنی تیزی سے پھیلے گا۔
پاکستانی گلوکار سلمان احمد کرونا وائرس میں مبتلا
پاکستانی گلوکار سلمان احمد بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سلمان احمد نیویارک میں مقیم ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا اعلان اُنہوں نے ٹوئٹر پر کیا۔ سلمان احمد میوزیکل بینڈ 'وائٹل سائن' اور 'جنون' سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کہاں سے آیا
وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹر ویو میں ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سرجن ڈاکٹر سعید قریشی نے بتایا کہ یونیورسٹی کے بائیو ٹیکنالوجسٹس کرونا وائرس پر کنٹرول کے سلسلے میں پلازما تھیراپی پرکام کر رہے ہیں اور یہ ریسرچ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے مالیکیولر پتھالوجی کے شعبے نےکوویڈ 19 کا آر این اے، جو اس کا جینیاتی خاکہ ہے، کراچی یونیورسٹی کے جین کی تحقیق سے متعلق شعبے کو فراہم کر دیا ہے، جہاں اس کی جینومنگ سیکونس پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ جس سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ پاکستان پر حملہ کرنے والے وائرس کا جنیاتی نقشہ دنیا کے کس حصے میں پائے جانے والے کرونا وائرس سے ملتا ہے۔ اور یہ کہ یہ وائرس کتنا مہلک ہے اور اس پر کنٹرول کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔