پاکستان کے صوبے پنجاب میں کیسز کی تعداد 1493 ہے
پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی
پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی جب کہ 17 افراد کی حالت تشویش ناک اور 257 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 397 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 3277 ہو گئی ہے۔
پنجاب میں اب تک متاثرہ مریض7493، سندھ میں 881، خیبرپختونخوا میں 405، بلوچستان میں 191، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 82، گلگت بلتستان میں 210 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 15 ہوچکے ہیں۔
جاپان کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان
جاپان نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے بعد ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دارالحکومت ٹوکیو میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرنے پر جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ابے رواں ہفتے منگل کے روز سے ایمرجنسی کا نفاذ کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادار 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کو روکنے کے لیے جاپان میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
- By شمیم شاہد
پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھول دی گئی
پاکستان نے پاک افغان طورخم سرحد کو چار روز کے لیے جزوی طور پر کھول دیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے طورخم سرحد کھولی گئی ہے جو نو اپریل تک کھلی رہے گی۔
پالیسی کے تحت یومیہ صرف ایک ہزار افغان شہری سرحد پار کر کے افغانستان جاسکیں گے۔ سرحدی گزر گاہ پر صبح چھ بجے سے افغان شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔
سرحد کی جزوی بحالی سے صرف وہ افغان شہری مستفید ہوسکتے ہیں جو لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں پھنس گئے تھے۔
طورخم کی سرحدی گزرگاہ سے پہلے روز افغانستان جانے والوں میں لوگ شامل ہیں ہیں جو پشاور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں علاج معالجے کے لیے آئے تھے جب کہ سرحد پار جانے والوں میں 250 سے زیادہ تبلیغی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں۔
سرحد پار افغانستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی باشندے 16 مارچ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں لگ بھگ 8000 ڈرائیور اور ٹرانسپورٹرز کے علاوہ تقریباً 90 طلبہ بھی شامل ہیں جو کابل، جلال آباد، قندھار اور خوست کے میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے سرحد پار افغانستان میں پھنسے ہوئے باشندوں کی واپسی کے لیے کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔