رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:53 6.4.2020

پاکستان کے صوبے پنجاب میں کیسز کی تعداد 1493 ہے

10:18 6.4.2020

پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی

پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی جب کہ 17 افراد کی حالت تشویش ناک اور 257 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 397 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 3277 ہو گئی ہے۔

پنجاب میں اب تک متاثرہ مریض7493، سندھ میں 881، خیبرپختونخوا میں 405، بلوچستان میں 191، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 82، گلگت بلتستان میں 210 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 15 ہوچکے ہیں۔

12:14 6.4.2020

جاپان کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان

فائل فوٹو
فائل فوٹو

جاپان نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے بعد ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دارالحکومت ٹوکیو میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرنے پر جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ابے رواں ہفتے منگل کے روز سے ایمرجنسی کا نفاذ کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادار 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کو روکنے کے لیے جاپان میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔

12:46 6.4.2020

پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھول دی گئی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان نے پاک افغان طورخم سرحد کو چار روز کے لیے جزوی طور پر کھول دیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے طورخم سرحد کھولی گئی ہے جو نو اپریل تک کھلی رہے گی۔

پالیسی کے تحت یومیہ صرف ایک ہزار افغان شہری سرحد پار کر کے افغانستان جاسکیں گے۔ سرحدی گزر گاہ پر صبح چھ بجے سے افغان شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔

سرحد کی جزوی بحالی سے صرف وہ افغان شہری مستفید ہوسکتے ہیں جو لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں پھنس گئے تھے۔

طورخم کی سرحدی گزرگاہ سے پہلے روز افغانستان جانے والوں میں لوگ شامل ہیں ہیں جو پشاور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں علاج معالجے کے لیے آئے تھے جب کہ سرحد پار جانے والوں میں 250 سے زیادہ تبلیغی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں۔

سرحد پار افغانستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی باشندے 16 مارچ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں لگ بھگ 8000 ڈرائیور اور ٹرانسپورٹرز کے علاوہ تقریباً 90 طلبہ بھی شامل ہیں جو کابل، جلال آباد، قندھار اور خوست کے میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے سرحد پار افغانستان میں پھنسے ہوئے باشندوں کی واپسی کے لیے کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG