ایران: محدود معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت
ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک ایسی صورت حال میں، جب کہ ملک کرونا وائرس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، کہا ہے کہ ملک میں ایسی معاشی سرگرمیاں جن میں زیادہ خطرات نہ ہوں گیارہ اپریل سے دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔ ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے اور 3600 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کے پھر سے آغاز کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے گھروں کے اندر رہنے کے اصول کو ترک کر دیا ہے۔
انہوں نے کم خطرات والی سرگرمیوں کی وضاحت تو نہیں کی، لیکن یہ کہا کہ زیادہ خطرے والی سرگرمیاں جیسے کہ اسکولوں کا کھلنا یا بڑے اجتماعات ہیں، ان پر 18 اپریل تک پابندی رہے گی۔
صدر روحانی شہروں کے لاک ڈاؤن کے حامی نہیں تھے لیکن انہوں نے 18 اپریل تک کے لئے شہروں کے درمیان سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے آثار
آسٹریلیا میں ہفتے اور اتوار کو نئے کیسیز میں تین فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔ صحت کے حکام محتاط انداز میں خوش امیدی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے سلسلے میں جو تدابیر کی گئی ہیں، وہ کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ آسٹریلیا میں وہ نقصان نہیں ہو گا جس کا سامنا اٹلی یا امریکہ کو کرنا پڑ رہا ہے۔
اب تک آسٹریلیا میں تین لاکھ کے لگ بھگ افراد کے کرونا وائرس کے ٹسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 5600 کے قریب مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ 34 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیشتر معمر عمر کے لوگ تھے۔آسٹریلیا میں سماجی فاصلے کے اصول پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا۔ ہر قسم کی تفریح گاہیں، ہوٹل اور ریستوران بند ہیں اور تمام بین الاقوامی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔
آسٹریلیا کے چیف میڈیکل افسر بریںڈن مرفی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور آثار مثبت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں لوگوں نے نیویارک کے حالات سے سبق سیکھا ہے اور وہ ہماری بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جن سے اچھے نتائج ملے ہیں۔
چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کا خطرہ
چین نے پیر کے روز اپنی سرحدوں پر نقل و حمل کے حوالے سے سخت اقدامات کئے ہیں، کیونکہ وہاں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد میں ایک دم تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر 951 ہو گئی ہے۔
ان میں زیادہ تر تعداد ان چینی باشندوں کی ہے جو غیر ممالک سے چین آئے ہیں۔ ایسے مریض بھی ہیں جن میں کرونا وائرس جیسی علامات نہیں پائی گئیں۔ اس کے بعد چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کے خدشے میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم بیجنگ سے محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے متنبہ کیا ہے کہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس وبا کے خلاف کئے گئے اقدامات طویل عرصے تک نافذ العمل رہنے کا امکان ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمشن کے ترجمان نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا کہ اتوار تک کرونا وائرس کے 951 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ چینی شہری ہیں جو مختلف ممالک میں تھے اور جنہیں واپس لانے کیلئے چین نے خصوصی پروازوں کا اہتمام کیا تھا۔
فی الحال چین نے غیر ملکیوں کے چین میں داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی اور صرف ان چینی شہریوں کو واپس آنے دیا جا رہا ہے جو دوسرے ممالک میں مقیم تھے۔
چین نے دو ماہ تک تمام سرگرمیاں محدود رکھنے کے بعد اب انہیں پوری رفتار سے بحال کر دیا ہے۔
18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کرونا وائرس ٹیسٹ
کرونا وائرس کے ٹیسٹ اور کیسز کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف ملکوں میں وبا کے پھیلنے کی شرح الگ ہے۔ جن ملکوں نے بڑی تعداد میں ٹیسٹ کیے اور مریضوں کی تصدیق ہوتے ہی انھیں قرنطینہ تک محدود کر دیا، وہاں کیسز کی تعداد کم ہے۔ جن ملکوں میں زیادہ ٹیسٹ کرنے کے باوجود نقل و حرکت روکی نہیں جا سکی، وہاں مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
کرونا وائرس کے مریضوں کا ڈیٹا مرتب کرنے والی ویب سائٹ ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں اسرائیل، آسٹریا، متحدہ عرب امارات اور ناروے جیسے نسبتاً کم آبادی والے ملک شامل ہیں۔
امریکہ میں ساڑھے 18 لاکھ آبادی کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے ساڑھے 3 لاکھ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ امریکہ کی آبادی لگ بھگ 33 کروڑ ہے، اس لیے فی الحال ایک فیصد بھی آبادی کے ٹیسٹ نہیں کیے جا سکے۔ جن لوگوں کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں، ان میں سے 19 فیصد کے نتیجے مثبت آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔