بھارت میں کرونا وائرس کے 4421 کیسز
بھارت میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 4421 ہو گئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 114 ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 534 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ مہاراشٹر، کیرالہ، دہلی اور تمل ناڈو میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر اینٹی ملیریا ہائیڈروکلورو کوئن نامی دوا اور پیراسیٹامول ہمسائیہ ملکوں اور کرونا سے بہت زیادہ متاثر ملکوں کو سپلائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان ادویات کی برآمد پر عائد پابندی فوری طور پر ہٹا لے۔ ورنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہے۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت کو تمام ممالک کی مدد کرنی چاہیے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ دوائیں بھارتی عوام کے لیے وافر مقدر میں میسر رہیں۔
بھارت نے اینٹی ملیریا ادویات کی برآمد کی اجازت دے دی
ادویات برآمد کرنے والے ایک اہم ملک بھارت نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے بعد اینٹی ملیریا ادویات کی برآمد کی اجازت دے دی ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اینٹی ملیریا کی دوا 'ہائیڈوآکسی کلوروکوئن' کی محدود پیمانے پر درآمد جاری رکھے گا۔ مذکورہ دوائی کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے خلاف اہم ہتھیار قرار دیا تھا۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے منگل کو کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے پیراسیٹیمول اور اینٹی ملیریا ادویات کی مناسب مقدار میں درآمد کرے گی۔
بھارت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ادویات کی سپلائی سے متعلق کہا تھا اور پیر کو انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے ادویات کی سپلائی پر عائد پابندی نہ اٹھائی تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کو بھی ادویات فراہم کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کے ساتھ ساتھ ہائیڈروآکسی کلوروکوئن کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ تاہم ماہرینِ صحت اس دوا کو کرونا کا علاج تفویض نہیں کرتے۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مدد کی اپیل
پاکستان کے وزیرِ مملکت شہریار آفریدی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افغان مہاجرین کی فوری مدد کی جائے۔ ان کے بقول پاکستان ان کی مدد کر رہا ہے لیکن مہاجرین کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔
برازیل: ایمیزون جنگل کی آبادی کو کرونا وائرس سے بچانے کی کوششیں
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے لیے دنیا کے سب سے بڑے برساتی جنگل ایمیزون میں بھی آمد و رفت کو محدود کر دیا گیا ہے۔ کشتی کے ذریعے جنگلات تک رسائی کے راستوں کو صرف ضروری سامان کی ترسیل کے لیے کھولا جا رہا ہے جس سے درجنوں دیہات کا دنیا سے رابطہ کٹ کر رہ گیا ہے۔
ایمیزون جنگل میں کشتیاں، موٹر بوٹس، فیریز ان علاقوں میں کاروں، بسوں اور ٹرکوں کا کام کرتی ہیں جو دریا کے ذریعے لوگوں اور سامان کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچاتی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'فرانس 24' کے مطابق برازیل کی ریاست ایمیزوناس کے حکام نے علاقے میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان علاقوں میں آنے والی دریائی ٹریفک کو محدود کر دیا ہے۔ تاکہ اس علاقے میں وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
یہ جنگلات ریاست ایمیزوناس کا حصہ ہیں۔ ایمیزوناس برازیل کی سب سے بڑی ریاست ہے، جس کے گنجان جنگلات 15 لاکھ مربع کلو میٹر (چھ لاکھ مربع میل) پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جنوبی امریکی ملک پیرو اور ایکواڈور کے مشترکہ سائز کے برابر ہے۔
مذکورہ ریاست میں کووڈ-19 کے 532 کیسز جب کہ 19 اموات ہو چکی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر یہ وائرس بارشوں کے اس جنگل خصوصاً وہاں کے رہائشی علاقوں میں پھیلا تو اس سے بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔