پاکستان میں کیسز کی تعداد چار ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چار ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔
سرکاری ویب سائٹ 'کوئڈ' پر موجود اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 577 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4005 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے 429 افراد صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔
حکومت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد وبا سے اموات کی مجموعی تعداد 54 ہو گئی ہے۔
حکومت نے اب سرکاری ویب سائٹ پر ٹیسٹ سے متعلق اعداد و شمار کا اجرا بھی شروع کر دیا ہے۔ جس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3088 افراد کے کرونا وائرس سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 39183 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پنجاب میں سامنے آئی جو کہ 2004 ہے۔ اس کے بعد سندھ میں 932، خیبرپختونخوا میں 500، گلگت بلتستان میں 211، بلوچستان میں 202، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 83 جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 19 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
پیٹ مارکیٹس بند، سیکڑوں جانور بھوک پیاس سے ہلاک
پاکستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پالتو جانور فروخت کرنے والی دکانوں میں بند سیکڑوں جانور ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب چکن کی طلب کم ہوجانے کی وجہ سے پولٹری فارمز ہزاروں چوزے زندہ پھینک رہے ہیں، تاکہ ان کی خوراک کا خرچہ نہ اٹھانا پڑے۔
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پالتو جانوروں کی مارکیٹیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں۔ ان کی دکانوں میں سیکڑوں خرگوش، بلیاں، کتے اور دوسرے جانور موجود تھے، جنھیں دکاندار خوراک فراہم کرتے تھے۔
لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے دکاندار شہر کے دوسرے علاقوں سے مارکیٹ نہیں آسکے اور جانور دو ہفتوں تک بھوک کا شکار رہے۔
جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے حکام سے رابطہ کرکے دکانیں کھلوائی تو دیکھا کہ پنجروں میں بند سیکڑوں جانور مرے پڑے ہیں۔ جو زندہ بچے تھے، وہ بھوک پیاس سے جاں بلب تھے۔
یہ حال دیکھ کر اب حکام نے دکانداروں کو اجازت دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے باوجود آسکتے ہیں، تاکہ جانوروں کے کھانے پینے کا خیال رکھ سکیں۔
ان سیکڑوں پالتو جانوروں کے علاوہ پولٹری فارمز کے چوزے ہزاروں کی تعداد میں تلف کیے جا رہے ہیں، کیونکہ چکن کی طلب میں کمی آئی ہے اور اس کاروبار سے منسلک لوگ چوزوں کی خوراک کے پیسے بچانا چاہتے ہیں۔
چین کے شہر ووہان میں لاک ڈاؤن ختم
چین نے بدھ کو ووہان شہر میں جاری لاک ڈاون ختم کر دی ہے۔ اس شہر سے دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا بھر کی معیشت اور معمولات زندگی بری طرح درہم برہم ہو کر رہ گئی تھیں۔ اس شہر میں اس موذی مرض میں مبتلا ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
شہر کھلنے کے بعد معمولات زندگی اور معیشت کی بحالی کس طرح ہوتی ہے اس بات کا جائزہ پوری دنیا لے رہی ہے، تاکہ دس ہفتوں کے بعد کھلنے والے اس شہر کے تجربات اسے استفادہ کیا جاسکے۔
شہر میں ٹریفک ایک بار پھر رواں دواں ہے۔ دوکانیں کھل گئی ہیں۔ معمول کی خریداری جاری ہے۔ آہستہ آہستہ لوگ کام پر بھی جانا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم، بعض لوگ اب بھی خوف زدہ ہیں اور سپر مارکٹ میں جانے سے کتراتے ہیں۔
پنجاب کے 42 جیلوں میں 50 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق
لاہور کے کیمپ جیل میں پچھلے ماہ 24 مارچ کو کرونا وائرس سے متاثرہ ایک قیدی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پنجاب کی جیلوں میں قید، 50 قیدیوں میں اب تک کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے لاہور کے کیمپ جیل میں 100 بستروں پر مشتمل اسپتال فعال کر دیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان، عامر خواجہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب کے تمام جیلوں میں قرنطینہ سینٹر بنا دیے گئے ہیں اور ہر نئے آنے والے قیدی کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔
عامر خواجہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چھ اپریل تک لاہور کے ڈسٹرکٹ جیل میں 334 قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 182 ٹیسٹ نتائج موصول ہو چکے ہیں۔ ان میں 50 ٹیسٹ مثبت اور 132 منفی آئے ہیں، جبکہ بقیہ 152 ٹیسٹس کے نتائج کا انتظار ہے۔