کرونا وائرس کی آڑ میں غیر جمہوری اقدامات
کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں حکومتوں نے اپنے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہنگامی اقدامات کی آڑ میں کچھ حکومتیں ناجائز طور پر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کرونا وائرس: عام کارکنوں کی الجھنوں میں روز افزوں اضافہ
کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جہاں بہت بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے وہاں اس وائرس نےکروڑوں لوگوں کے لئے دنیا بھر میں شدید مالی پریشانیوں اور بے یقینی کو بھی جنم دیا ہے۔ اور روز بروز ان کی الجھنوں میں بظاہر اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کیا ترقی یافتہ اور کیا ترقی پزیر ممالک، کسی کو بھی استثنٰی حاصل نہیں. البتہ، یہ بات غریب ملکوں کے لئے خاص طور سے زیادہ پریشان کن ہے کہ لاک ڈاون کی بنا پر ان ملکوں میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے گھروں میں اب فاقہ کشی تک کی نوبت آ گئی ہے۔
بڑے چھوٹے تمام ملکوں نے اپنے اپنے وسائل کے مطابق مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات تو کئے ہیں، تاہم بیروزگاری کی شرح نے صورتحال کو گھمبیر بنا رکھا ہے۔
امریکہ بھی اس سے مثتثنٰی نہیں، جہاں صرف گزشتہ مہینے تقریباً ایک کروڑ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کے نظام پر شدید بوجھ پڑا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں کارکنوں نے مراعات کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ بعض یورپی ملکوں، مثلا ًجرمنی اور فرانس نے اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف صنعتوں میں کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں رقوم مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ امریکہ نے نوکری سے نکالے جانے والے لاکھوں مزدوروں کے لئے سرکاری عانت میں اضافہ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔
اس کے باوجود ماہرین کہتے ہیں کہ صورتحال میں ابہام موجود ہے۔ سیاٹل کے شہر میں ریسٹورانٹ میں کام کرنے والے ایک شخص رایان فریمین نے بتایا کہ اسے بیروزگاری کا کوئی چیک ابھی تک نہیں ملا۔ اس نظام پر بہت زیادہ بوجھ ہے اور ٹیلی فون پر رابطہ بھی ناممکنات میں سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسی صورتحال سے بہت سے کارکن دوچار ہیں۔
مزید پڑھیے
'زندگی ختم ہو رہی تھی، دل و دماغ میں صرف بیٹیاں تھیں'
ایک رات سانس اکھڑی تو لگا کہ آخری وقت آ گیا ہے۔ ایک دوست کو ویڈیو کال کی اور اشاروں سے خدا حافظ کہا۔ اسپتال میں آس پاس لوگوں کو کرونا وائرس سے مرتے دیکھتا تو آس ٹوٹ جاتی تھی۔ لندن میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مبشر احمد کی وائس آف امریکہ کے اسد حسن سے گفتگو۔
کرونا وائرس اور انسانی حقوق
کرونا وائرس نے پوری دنیا کے انسانوں کو صحت کے ایسے مسئلے سے دوچار کر دیا ہے کہ بہت سے عالمگیر مسائل سے توجہ ہٹ گئی ہے۔ عام طور پر انسان کی جدوجہد زندگی کی بنیادی سہولتوں اور شخصی آزادیوں کی لئے ہوتی ہے، مگر کرونا وائرس کی وبا نے اس کیلئے خود زندگی بچانا ہی مشکل کر دیا ہے۔
وہ جو اپنی بات کہنے کیلئے آزادی تحریر و تقریر کیلئے حکومتوں سے ٹکرا جانے کو تیار تھے، اب خود ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے پر مجبور ہیں۔
اور یہی وقت ہے کہ آزادیاں سلب کرنے والے با اختیار لوگ اپنی من مانی کا موقعہ تلاش کر رہے ہیں۔
اس کا احساس اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کمشن کی ہائی کمشنر مشعل بیچلیٹ نے دلایا ہے۔ وہ خبردار کرتی ہیں کہ اگر توجہ نہ دی گئی تو کرونا وائرس کی وباء دنیا میں موجود عدم مساوات کو اور وسیع کر دے گی۔ اور اس کا نشانہ غریب اورمعذور، قلیتیں، خواتین اور معمر افراد بنیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی عہدیدار نے ان حکومتوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے جو اس وبا کے دوران ہنگامی اقدامات کی آڑ میں اپنی جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کر رہی ہیں جو ناکافی سہولتوں پر آواز اٹھاتے ہیں، خاص طور پر ان صحافیوں کے خلاف جو حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی سربراہ نے کہا ہےکہ انہیں ان حکومتوں کے بارے میں تشویش ہے جو اس عالمی وبا کا فائدہ اٹھا کر اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں، جس کی کوئی حد نہ ہو اور جس پر کسی کی نظر نہ ہو۔