کون سے ملک کرونا وائرس سے جنگ جیت رہے ہیں
کرونا وائرس سے یورپ میں 80 ہزار اور امریکہ میں 23 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہر ملک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ تشویش ناک حالات میں چند ممالک ایسے ہیں جنھوں نے فوری طور پر درست فیصلے کر کے اپنے شہریوں کو بڑی حد تک عالمگیر وبا سے بچالیا ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ، مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے اور عوام کی نقل و حرکت کو روکنے ہی سے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کئی ملک اس پر عمل نہیں کر رہے جس کا نتیجہ زیادہ مریضوں اور ہلاکتوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔
کرونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوا اور اس نے دوسرے ملکوں سے پہلے چین میں ہزاروں افراد کو متاثر کیا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہانگ کانگ نے کس طرح خود کو اس وائرس سے بچایا۔ وہاں اب تک 96 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں صرف ایک ہزار مثبت آئے اور اب تک فقط چار اموات ہوئی ہیں۔
سنگاپور نے بھی بہت جلد صورت حال کو بھانپ لیا تھا۔ وہاں اب تک 72 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں, جن میں 2900 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اب تک 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ کی گولڈن ریاست کرونا وائرس کا مقابلہ کیسے کر رہی ہے
کیلی فورنیا میں کووڈ ٹیم اور سٹیٹ ہیلتھ بورڈ کے رکن پلمونالوجسٹ ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ "کیلی فورنیا کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کو روکنے کے جو اقدامات کئے ان سے بہت فائدہ ہوا۔
ان کے بقول، نہ صرف گورنر نے جلد اقدامات کئے بلکہ جو مقامی مئیر تھے انہوں نے بھی فوری ایکشن لیا۔ ان میں سین فرانسسکو، لاس اینجلس اور دیگر بڑے شہروں کے مئیر شامل ہیں۔ اور پھر انہیں ریاست کی مدد بھی حاصل تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت کیلیفورنیا اس قابل ہے کہ اس نے پانچ سو وینٹیلیٹر نیویارک کو دیئے ہیں اور کولوراڈو اور وسکانسن کو بھی دئیے ہیں۔ اور پھر بھی اتنے وینٹی لیٹر بچ رہے ہیں کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو تو استعمال کیے جا سکتے ہیں۔"
کیلی فورنیا کا موسم اکثر معتدل رہتا ہے۔ موسمِ گرما خشک اور گرم اور سرما میں بعض علاقوں میں برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اب تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ موسم گرم ہو گا تو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے اثرات بھی کم ہو جائیں گے۔
مگر ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ یہ محض خیال ہے کہ فلو کی طرح یہ وائرس موسم گرم ہوتے ہی ختم ہو جائے گا۔ بلکہ جن علاقوں میں موسم گرم تھا ان میں بھی یہ وائرس پھیلا ہے۔ تاہم یہ امید ضرور کی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے جون یا جولائی میں اس کا زور کم ہو جائے اور پھر موسمِ خزاں میں یہ پھر ابھر کر آئے۔
گزشتہ تین ہفتوں میں اٹلی میں اموات کی کم ترین شرح
اٹلی میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی شرح کم ترین درجہ پر ہے۔ اٹلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔
اٹلی، یورپ کا وہ ملک ہے جسے کرونا وائرس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، اور یہاں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم، اٹلی کے چند ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہوئی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بوڑھے افراد کیلئے قائم سینٹروں میں، بہت سی ایسی ہلاکتیں ہوئیں جن کے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے، دی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کرونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد خود مرتب کر رہا ہے۔ اے پی نے خبر دی ہے کہ امریکہ میں بوڑھے افراد کیلئے بنائے گئے نرسنگ ہومز میں اپریل کے اوائل میں اموات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ تعداد 3300 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اٹلی ہی کی طرح، یہاں بھی ہلاکتوں کے درست اعداد شاید سامنے نہ آ سکیں کیونکہ بہت سے معمر افراد، ٹیسٹ ہونے سے پہلے ہی ہلاک ہو گئے۔
بھارت میں کرونا وائرس کے 10 ہزار سے زائد مریض، لاک ڈاؤن میں توسیع
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں تین مئی تک توسیع کر دی ہے۔ دوسری جانب بھارت بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق منگل کو بھارتی وزیر اعظم نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ایک چیلنج ہے۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ہر بھارتی شہری کو تین مئی تک لاک ڈاؤن میں رہنا ہو گا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کرونا وائرس کا ملک کے دیگر حصوں میں پھیلاؤ روکنے کے لیے معاونت کریں۔
خیال رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار 363 ہو گئی ہے جب کہ اب تک 339 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔