رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:47 14.4.2020

کون سے ملک کرونا وائرس سے جنگ جیت رہے ہیں

کرونا وائرس سے یورپ میں 80 ہزار اور امریکہ میں 23 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہر ملک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ تشویش ناک حالات میں چند ممالک ایسے ہیں جنھوں نے فوری طور پر درست فیصلے کر کے اپنے شہریوں کو بڑی حد تک عالمگیر وبا سے بچالیا ہے۔

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ، مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے اور عوام کی نقل و حرکت کو روکنے ہی سے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کئی ملک اس پر عمل نہیں کر رہے جس کا نتیجہ زیادہ مریضوں اور ہلاکتوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔

کرونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوا اور اس نے دوسرے ملکوں سے پہلے چین میں ہزاروں افراد کو متاثر کیا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہانگ کانگ نے کس طرح خود کو اس وائرس سے بچایا۔ وہاں اب تک 96 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں صرف ایک ہزار مثبت آئے اور اب تک فقط چار اموات ہوئی ہیں۔

سنگاپور نے بھی بہت جلد صورت حال کو بھانپ لیا تھا۔ وہاں اب تک 72 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں, جن میں 2900 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اب تک 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے

03:51 14.4.2020

امریکہ کی گولڈن ریاست کرونا وائرس کا مقابلہ کیسے کر رہی ہے

کیلی فورنیا میں کووڈ ٹیم اور سٹیٹ ہیلتھ بورڈ کے رکن پلمونالوجسٹ ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ "کیلی فورنیا کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کو روکنے کے جو اقدامات کئے ان سے بہت فائدہ ہوا۔

ان کے بقول، نہ صرف گورنر نے جلد اقدامات کئے بلکہ جو مقامی مئیر تھے انہوں نے بھی فوری ایکشن لیا۔ ان میں سین فرانسسکو، لاس اینجلس اور دیگر بڑے شہروں کے مئیر شامل ہیں۔ اور پھر انہیں ریاست کی مدد بھی حاصل تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت کیلیفورنیا اس قابل ہے کہ اس نے پانچ سو وینٹیلیٹر نیویارک کو دیئے ہیں اور کولوراڈو اور وسکانسن کو بھی دئیے ہیں۔ اور پھر بھی اتنے وینٹی لیٹر بچ رہے ہیں کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو تو استعمال کیے جا سکتے ہیں۔"

کیلی فورنیا کا موسم اکثر معتدل رہتا ہے۔ موسمِ گرما خشک اور گرم اور سرما میں بعض علاقوں میں برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اب تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ موسم گرم ہو گا تو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے اثرات بھی کم ہو جائیں گے۔

مگر ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ یہ محض خیال ہے کہ فلو کی طرح یہ وائرس موسم گرم ہوتے ہی ختم ہو جائے گا۔ بلکہ جن علاقوں میں موسم گرم تھا ان میں بھی یہ وائرس پھیلا ہے۔ تاہم یہ امید ضرور کی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے جون یا جولائی میں اس کا زور کم ہو جائے اور پھر موسمِ خزاں میں یہ پھر ابھر کر آئے۔

مزید پڑھیے

03:55 14.4.2020

گزشتہ تین ہفتوں میں اٹلی میں اموات کی کم ترین شرح

اٹلی میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی شرح کم ترین درجہ پر ہے۔ اٹلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔

اٹلی، یورپ کا وہ ملک ہے جسے کرونا وائرس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، اور یہاں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم، اٹلی کے چند ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہوئی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بوڑھے افراد کیلئے قائم سینٹروں میں، بہت سی ایسی ہلاکتیں ہوئیں جن کے ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے، دی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کرونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد خود مرتب کر رہا ہے۔ اے پی نے خبر دی ہے کہ امریکہ میں بوڑھے افراد کیلئے بنائے گئے نرسنگ ہومز میں اپریل کے اوائل میں اموات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ تعداد 3300 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اٹلی ہی کی طرح، یہاں بھی ہلاکتوں کے درست اعداد شاید سامنے نہ آ سکیں کیونکہ بہت سے معمر افراد، ٹیسٹ ہونے سے پہلے ہی ہلاک ہو گئے۔

مزید پڑھیے

10:26 14.4.2020

بھارت میں کرونا وائرس کے 10 ہزار سے زائد مریض، لاک ڈاؤن میں توسیع

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں تین مئی تک توسیع کر دی ہے۔ دوسری جانب بھارت بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق منگل کو بھارتی وزیر اعظم نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ایک چیلنج ہے۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ہر بھارتی شہری کو تین مئی تک لاک ڈاؤن میں رہنا ہو گا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کرونا وائرس کا ملک کے دیگر حصوں میں پھیلاؤ روکنے کے لیے معاونت کریں۔

خیال رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار 363 ہو گئی ہے جب کہ اب تک 339 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG