جی 20 ممالک افریقہ کو قرضوں کی واپسی میں چھوٹ دینے کو تیار
فرانس نے کہا ہے کہ جی ٹونٹی گروپ کے ملک اس سال ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ادائیگی جزوی طور پر معطل کر دینے پر راضی ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر افریقی ممالک شامل ہیں۔
فرانس کے صدر میکخواں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ فرانس اور یوروپی یونین کو افریقی ممالک کو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مدد دینے کے لئے قرضوں میں بڑے پیمانے پر چھوٹ دینی چاہئیے۔ خیال رہے کہ پوپ فرانسس نے بھی اسی قسم کی اپیل کی ہے۔
گزشتہ ہفتے فرانس نے افریقہ کے لئے کرونا وائرس کی مد میں امداد کے لئے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا، جبکہ یورپین کمشنر عرسولہ ون لین نے ترقی پذیر ملکوں کے لئے سولہ ارب ڈالر سے زیادہ مدد کا اعلان کیا ہے۔ لیکن، دونوں ہی صورتوں میں یہ موجودہ فنڈز میں بس رد و بدل کی صورت میں ہی ہو گا۔
خیال رہے کہ افریقہ میں ابھی کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد کم ہے لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔ ایک ایسے بر اعظم کے لئے ممکنہ طور پر خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں جہاں صحت کا انتظام انتہائی ناکافی ہے اور جہاں لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور جہاں کے لئے اقوام متحدہ پہلے ہی پیشگوئی کر چکی ہے کہ افریقہ میں مجموعی طور پر اس سال اقتصادی شرح نمو آدھی رہ جائے گی۔
پاکستان میں ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز
صدر ٹرمپ کا معیشت جلد کھولنے کا اعلان
امریکہ میں مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس کے شکار مزید دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کا منصوبہ پیش کریں گے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والے امریکی ادارے جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار 925 ہو گئی ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کو ہلاکتوں کی یہ تعداد 28 ہزار سے زائد تھی جو بدھ کو بڑھ کر 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے جمعرات کو ایک منصوبہ بھی پیش کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور نئے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
- By زبیر ڈار
کرونا وائرس: سرینگر کے کئی علاقے ریڈ زون میں تبدیل
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے انتظامیہ نے کئی علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا ہے۔ کرونا کے خلاف جنگ میں مقامی رضا کار بھی انتظامیہ کا ساتھ دے رہے ہیں جنہوں نے اپنے علاقوں میں لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ مزید دیکھیے زبیر ڈار کی رپورٹ میں