رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:08 17.4.2020

بیرون ملک 43000 پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں: دفترِ خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ اس وقت کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے تقریباً 43000 پاکستانی شہری وطن واپسی کے منتطر ہیں۔

جمعہ کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان عائشہ فارقی نے کہا کہ ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے ایک جامع اور مرحلہ پروگرام پر کام جاری ہے۔

ان کے بقول اب تک 2287 پاکستانیوں کو دوحہ، دبئی، بینکاک، استنبول، لندن، باکو، تاشقند کوالالمپور اور سنگاپور سے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی 12 پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جا چکا ہے۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے دوسرا مرحلہ 14 اپریل سے شروع ہو چکا ہے جو 18 اپریل تک جاری رہے گا۔

اُن کے بقول اس مرحلے میں پی آئی اے کی نو پروازوں کے ذریعے لگ بھگ 2000 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لا یا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں عمرہ زائرین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 271 کو عمان اور 634 کو متحدہ عرب امارت سے وطن واپس لایا جائے گا۔ ترجمان کے بقول تھائی لینڈ اور جاپان سے 270 پاکستانی شہریوں کو پہلے ہی وطن واپس لا یا جا چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانیوں کی وطن واپسی کے دوسرے مرحلے کے دوران پی آئی اے کی پروازوں کے اسلام آباد کے علاوہ لاہور، ملتان، کراچی، پشاور اور فیصل آباد کے ہوائی اڈوں پر بھی اُترنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

16:53 17.4.2020

بھارتی کشمیر میں کرونا سے ایک اور ہلاکت، مجموعی کیس 334

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمعے کو ایک اور شخص کرونا وائرس یا کووڈ-19 کا شکار ہو کر ہلاک ہو گیا۔ جس کے بعد وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ جمعے کو وادئ کشمیر کے سوپور علاقے کا رہائشی 75 سالہ شہری وائرس سے ہلاک ہوا۔ مذکورہ شخص پہلے سے ہی مختلف امراض میں مبتلا اور مقامی اسپتال میں زیرِ علاج تھا۔

لداخ سمیت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمعے کی سہ پہر تک کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 334 تک پہنچ گئی ہے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 58 ہزار سے زائد افراد زیرِ نگرانی ہیں۔ جن میں سے 7500 افراد گھروں، اسپتالوں یا خصوصی مراکز کے قرنطینہ میں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر 20 اپریل کے بعد بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا امکان نہیں ہے۔

جموں و کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پندورنگ کے پولے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایسا کرنا اس خطرناک وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے اور لوگوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ عوام کو صبر و تحمل سے کام لینا ہو گا۔"

پولیس اور نیم فوجی دستے وادئ کشمیر اور جموں کے کئی علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔ وہیں انتظامیہ نے 100 سے زائد علاقوں کو زائد کیسز رپورٹ ہونے پر 'ریڈ زون' قرار دے کر سیل کر دیا ہے۔

جمعے کو پولیس نے مزید دو درجن افراد کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ان میں سرینگر کے بٹہ وارہ علاقے کی ایک مسجد کا امام بھی شامل ہے۔ جس نے نمازِجمعہ کا اہتمام کرایا تھا۔ تاہم بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی بیشتر مساجد اور خانقاہوں میں لگاتار چوتھے جمعے کو بھی بڑے اجتماعات نہیں ہوئے۔

17:06 17.4.2020

فیصل مسجد میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع کی اجازت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں فیصل مسجد کو نماز جمعہ کے لیے کھول دیا گیا جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ ادا کی۔ اسلام آباد کی لال مسجد میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے نمازِ جمعہ ادا کی۔

سیکیورٹی اداروں نے نماز جمعہ کا وقت شروع ہوتے ہی سڑکوں پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا دیں اور نمازیوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی۔

نماز جمعہ کے دوران سڑکوں پر ٹریفک انتہائی کم رہی زیادہ تر شہریوں نے اپنے گھروں پر ہی نماز جمعہ ادا کی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دیگر چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی برقرار رہی جہاں صرف پانچ نمازیوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی۔

اسلام آباد کی لال مسجد میں حکومتی پابندیوں کے باوجود نماز جمعہ میں بڑی تعدد میں لوگ شریک ہوئے۔ مولانا عبدالعزیز نے نماز جمعہ کی امامت کرائی۔ یہ مسلسل تیسرا جمعہ ہے جب لال مسجد میں نماز جمعہ کا بڑا اجتماع کیا گیا۔

دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 18 اپریل کو علما کرام کا اجلاس بلا لیا ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے علما کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

علما کرام کے ساتھ ہونے والے اس مشاورتی اجلاس میں ماہ رمضان میں نماز تراویح، نماز جمعہ اور مساجد کھولنے کے حوالے سے مشاورت ہوگی۔

ایوانِ صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق اجلاس میں رمضان میں کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات پر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

17:18 17.4.2020

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی شروع

کرونا وائرس کے باعث سرحدوں کی بندش سے افغانستان میں محصور پاکستانیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ جمعے کو طورخم بارڈر سے 200 افراد پاکستان پہنچے ہیں جنہیں لنڈی کوتل کے قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا ہے۔ ضلع خیبر کے قرنطینہ مراکز میں افغانستان سے آنے والوں کے لیے کیا سہولتیں موجود ہیں؟ دیکھیے اس رپورٹ میں

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی شروع
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:41 0:00

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG