رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:20 18.4.2020

ترسیلات کم ہوں گی، اگلے سال قرضوں کے پہاڑ کھڑے ہوں گے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے ممتاز معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کم ہوں گی۔ اس سال قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ مل رہی ہے، لیکن اگلے سال قرضوں کے پہاڑ کھڑے ہوں گے۔

قیصر بنگالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ہت مشکل وقت ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے آمدنی کے جو اہداف رکھے تھے، کاروباروں کے بند ہونے اور بیروزگاری بڑھنے سے اس کا پچاس فیصد بھی حاصل ہو جائے تو بڑی کامیابی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ عالمی وبا سے پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ برآمدات رک گئى ہیں، برآمدی صنعتوں کے پرانے آرڈرز منسوخ ہو رہے ہیں یا ملتوی کر دیے گئے ہیں اور نئے آرڈرز ملنا بند ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کا مالی خسارہ اس سال بہت زیادہ ہو سکتا ہے، جس کا فی الحال اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست کا سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم پر انحصار بہت زیادہ ہے جو کم ہوں گی کیونکہ عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں پوری دنیا میں بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔

آئى ایم ایف کے حالیہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر کی معیشتیں اس سال 3 فیصد تک سکڑ سکتی ہیں۔ ورلڈ بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر الانگو پاچا موتو نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ پاکستان کی معیشت 2 اعشاریہ 2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیے

13:22 18.4.2020

پاکستان نے کرونا وائرس متاثرین کی امداد میں مذہبی تفریق کو مسترد کر دیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں شہریوں کو امداد کی فراہمی میں مذہبی بنیادوں پر تفریق کر رہی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی حکومت کے لیے تمام شہری برابر ہیں۔

امریکہ کے سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سیم براؤن نے کرونا وائرس کے پیش نظر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مبینہ طور پر مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر قید افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اس عالمی وبا سے مذہبی اقلیتوں کو درپیش مشکلات حل کرنے پر بھی زور دیا۔

بدھ کو واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران سیم براؤن نے کہا کہ وہ دنیا کی تمام حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو صحت عامہ کی بنیادی سہولتیں اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں۔

انہوں نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مذہبی اقلیتوں کو کھانے پینے کی اشیا اور بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس معاملے پر پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے پاکستان میں اقلیتوں کو خوراک کی امداد سے انکار کا دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔

مزید پڑھیے

13:23 18.4.2020

کرونا وائرس: کیا 'پیسو ایمونائزیشن' کا طریقہ علاج کارگر ہو سکتا ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دنیا بھر کی جامعات اور ریسرچ ادارے ان دنوں انسانیت کو کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دوا کی تیاری میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ایسے میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایسے متبادل طریقہ علاج پر بھی غور کیا جارہا ہے جس سے اس وبا کے اثرات کم کرنے کے ساتھ مریضوں کی جان بچائی جاسکے۔

اسی سلسلے میں چند روز قبل پاکستان کے شہر کراچی کی ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی ماہرین نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ 'پیسو ایمونائزیشن' طریقہ علاج کے ذریعے اس مرض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

اس طریقے کے تحت وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہونے والے مریض کے خون سے کچھ خلیات (اینٹی باڈیز) لے کر متاثرہ مریضوں کو لگایا جاتا ہے۔ جو وائرس کے متاثرہ مریض کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت علی کا کہنا اس 'انٹراوینسلی ایڈمنسٹریبل ایمنوگلوبلین (آئی وی آئی جی) یا (نسوں کے ذریعے پہنچائی جانے والی اینٹی باڈیز) کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے

13:38 18.4.2020

پی آئی اے کا برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال

پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث فلائٹ آپریشن بند ہونے سے پاکستان اور برطانیہ میں پھنسے افراد کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی اے 19 اپریل سے روزانہ لاہور اور اسلام آباد سے لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کے لیے پروازیں چلائے گا۔

پاکستان اور برطانیہ میں سیکڑوں مسافر کئی روز سے محصور تھے، اور دونوں ممالک کے مسافروں نے اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال رکھا تھا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال کرنے کی منظوری دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ آپریشن کی بحالی کے دوران حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایئر لائن نے اس ضمن میں خصوصی رعایت بھی متعارف کرا دی ہے۔

پاکستان سے برطانیہ کے لیے یک طرفہ کرایہ ایک لاکھ 10 ہزار روپے یا 525 برطانوی پاؤنڈ ہو گا۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پروازیں ہفتے سے بکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG