یورپ میں 57 ہزار سے زیادہ اموات نرسنگ ہومز میں ہوئیں، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں کرونا وائرس سے نصف اموات نرسنگ ہومز اور ان جیسے طویل مدت تک دیکھ بھال کرنے والے مراکز میں ہو رہی ہیں۔ اس کی سنگینی یہ جان کر بڑھ جاتی ہے کہ اس وبا سے یورپ میں اب تک ایک لاکھ 14 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس بیان کا مقصد صحت عامہ کے ماہرین کی توجہ وائرس کے آسان شکار بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کی طرف دلانا ہے۔ اب تک حکومتوں اور ماہرین صحت کی تمام تر توجہ اسپتالوں کی طرف رہی ہے۔ اکثر اموات کے اعداد و شمار صرف اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں۔
یورپ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ہانز کلوگ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معمر افراد کے مراکز کی انتہائی پریشان کن تصویر سامنے آ رہی ہے۔ یورپی ملکوں کے اپنے اندازوں کے مطابق، نصف اموات نرسنگ ہومز جیسے مقامات پر ہورہی ہیں۔ یہ ناقابل تصور انسانی المیہ ہے۔
ہانز کلوگ کا انتباہ یورپ سے متعلق ہے، لیکن امریکہ میں بھی معمر افراد کے مراکز کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اس کے محتاط اندازے کے مطابق، امریکہ کے ہر دس میں سے ایک مرکز نے کرونا وائرس کا کیس رپورٹ کیا ہے اور ان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق۔ یہ تعداد کم از کم سات ہزار ہے۔
ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے ایک چوتھائی اموات نرسنگ ہومز ہی میں ہوئی ہیں۔ ان مراکز کو ریفریجریٹر ٹرکس منگوانے پڑے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھنا پڑیں، کیونکہ مردہ خانوں یا فیونرل ہومز میں جگہ نہیں تھی۔
ریاست نیوجرسی نے پیر کو 425 نرسنگ ہومز کی فہرست جاری تھی جن میں کرونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ریاست میں ہوئی 4377 اموات میں سے 1779 ان مراکز میں ہوئیں۔
ان میں سے ایک مرکز انڈوور میں ہے جہاں 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سوا چار سو رہائشی یا عملے کے ارکان بیمار پڑے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے نامعلوم شخص کی مخبری پر پولیس نے وہاں چھاپا مارا تو ایک کمرے سے 17 لاشیں ملیں جنھیں باڈی بیگز میں بند کرکے وہاں رکھا گیا تھا۔
اس سے پہلے ورجینیا کے شہر رچمنڈ سے خبر ملی تھی کہ اس کے ایک کینٹربری نرسنگ ہوم کے 160 میں سے 45 رہائشی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسے۔ امریکہ میں کرونا وائرس ریاست واشنگٹن سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور کرک لینڈ کا 'لائف کئیر نرسنگ ہوم' اس کا پہلا نشانہ تھا۔ وہاں 43 اموات ہوچکی تھیں۔
یورپ اور امریکہ کے نرسنگ ہومز نے ان مراکز میں مقیم افراد کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے رشتے داروں کا داخلہ بند کیا ہوا ہے۔ لیکن، اس کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ وہ تنہائی میں انتقال کر رہے ہیں۔
جرمنی میں ایک لاکھ شہری کرونا سے صحت یاب
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 27 لاکھ اور اموات ایک لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہیں۔ ترکی ایک لاکھ کیسز والا ساتواں ملک بن گیا ہے جبکہ جرمنی ایک لاکھ صحت یاب شہریوں والا اولین ملک ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 638، فرانس میں 516، اٹلی میں 464، اسپین میں 440، برازیل میں 407، بیلجیم میں 228، کینیڈا میں 167، نیدرلینڈز میں 123، ترکی میں 115 اور میکسیکو میں 113 افراد ہلاک ہوگئے۔ ایران میں یہ تعداد 90، جرمنی میں 89 اور سویڈن میں 84 تھی۔
اب تک 15 ملکوں میں کرونا وائرس سے ایک ہزار یا زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ اٹلی میں کل تعداد 25549، اسپین میں 22157، فرانس میں 21856، برطانیہ میں 18738، بیلجیم میں 6490، ایران میں 5481، جرمنی میں 5404، چین میں 4632 اور نیدرلینڈز میں 4177 ہے۔ برازیل میں 3313، ترکی میں 2491، کینیڈا میں 2141، سویڈن میں 2021 اور سوئزرلینڈ میں 1549 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں جمعرات کی سہہ پہر تک 27 ہزار نئے کیسز سامنے آئے تھے اور دو ہزار افراد کا انتقال ہوا تھا۔ ملک میں 45 لاکھ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، 8 لاکھ 75 ہزار مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں سے ساڑھے 49 ہزار چل بسے ہیں۔
امریکہ کی 9 ریاستوں میں وبا سے ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں شمار کی جا چکی ہیں۔ نیویارک میں 20861، نیوجرسی میں 5368، مشی گن میں 2977، میساچوسیٹس میں 2360، پینسلوانیا میں 1713، الی نوئے میں 1688، کنیٹی کٹ میں 1639، لوزیانا میں 1599 اور کیلی فورنیا میں 1512 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ فلوریڈا میں یہ تعداد 960 ہے۔
امریکہ کی تین ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں 10 سے کم اموات ہوئی ہیں۔ الاسکا اور جنوبی ڈکوٹا میں نو نو اور وایومنگ میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ کے بعد کرونا وائرس کے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد اسپین میں ہے۔ وہاں 2 لاکھ 13 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں۔ اٹلی میں ایک لاکھ 89 ہزار، فرانس میں ایک لاکھ 58 ہزار، جرمنی میں ایک لاکھ 51 ہزار، برطانیہ میں ایک لاکھ 31 ہزار اور ترکی میں ایک لاکھ ایک ہزار مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ مزید 25 ملکوں میں 10 ہزار یا زیادہ کیسز ہیں جن میں اب بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔
وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ملک اپنے زیادہ سے زیادہ شہریوں کے ٹیسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس میں اب تک 24 لاکھ، جرمنی میں 20 لاکھ 72 ہزار، اٹلی میں 15 لاکھ 79 ہزار، اسپین میں 9 لاکھ 30 ہزار، ترکی میں 7 لاکھ 91 ہزار، متحدہ عرب امارات میں 7 لاکھ 90 ہزار، کینیڈا میں 6 لاکھ 20 ہزار، برطانیہ میں 5 لاکھ 83 ہزار، جنوبی کوریا میں 5 لاکھ 85 ہزار اور بھارت میں پورے 5 لاکھ ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
جمعرات تک کرونا وائرس کے 7 لاکھ 40 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے تھے۔ ان میں جرمنی کے ایک لاکھ 3 ہزار، اسپین کے 89 ہزار، امریکہ کے 84 ہزار، چین کے 77 ہزار، ایران کے 64 ہزار، اٹلی کے 57 ہزار، فرانس کے 42 ہزار اور برازیل کے 25 ہزار شہری شامل تھے۔
لاک ڈاؤن سے کاربن گیسوں کے اخراج میں تاریخی کمی
کرونا وائرس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل و حرکت محدود ہونے سے ماحول کی آلودگی میں نمایاں طور پر کمی دیکھی جا رہی ہے۔ لیکن دوسری جانب آب و ہوا سے متعلق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے کرہ ارض کو جس قدر نقصان پہنچ چکا ہے، اس کا ازالہ صرف کرونا وائرس کا لاک ڈاؤن نہیں کر سکتا۔ انسان کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔
کرہ ارض میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن سے کمی ہو ئی ہے۔ کاربن گیسوں کے اخراج پر نظر رکھنے والے ایک برطانوی ادارے 'کاربن بریف' کے ایک حالیہ تجزے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی ایک سال کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تاریخ کی سب سے زیادہ 2000 میڑک ٹن کی کمی ہوئی ہے جو 2019 میں کاربن کے کل اخراج کے ساڑھے پانچ فی صد کے برابر ہے۔ کرونا وائرس سے قبل اس سال کاربن گیسوں میں کم از کم ایک فی صد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
سن 2015 میں گلوبل وارمنگ پر پیرس میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے ڈیڑھ فی صد زیادہ پر واپس لایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ معیار حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک عشرے تک کاربن گیسوں کے اخراج میں ہر سال 7 اعشاریہ 6 فی صد کمی کی جائے۔
کاربن بریف کا کہنا ہے کہ چین میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک موقع پر کاربن گیسوں کے اخراج میں 25 فی صد تک کمی ہوئی۔ اب جب کہ بھارت میں لاک ڈاؤن جاری ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہاں کاربن گیسوں کا اخراج 30 فی صد تک گر جائے گا۔
مگر یہ صورت حال زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہے گی اور اب جیسا کہ مختلف ممالک یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنے والے ہیں، ایک یا دو مہینوں کے بعد کاربن کے اخراج میں یکایک نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
ایک بائیو کیمسٹ اور کاربن بریف کے ڈپٹی ایڈیٹر سائمن ایونز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کرہ ارض میں کاربن گیسوں کو پیرس معاہدے کی شرط ایک اعشاریہ پانچ فی صد پر لانے کے ایک تکلیف دہ ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ یہ ایک عارضی وقفہ ہے، جیسے ہی انسانی سرگرمیاں بحال ہوں گی، ہم اسی سطح پر واپس چلے جائیں گے۔
سائنس دانوں نے سن 2050 تک عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ درجے زیادہ پر واپس لانے کے لیے درجنوں ماڈل پیش کیے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔ لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق بین الالحکومتی پینل نے 2018 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں اس بارے میں ایک غیر واضح تصویر پیش کی تھی، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ ہو بھی سکے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن گیسوں پر کنٹرول کے لیے ہمیں معدنی توانائی پر اپنا انحصار مکمل طور پر ختم کرکے اپنے تمام شعبے بجلی پر منتقل کرنا ہوں گے۔ لیکن ہماری ٹیکنالوجی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر، ہم اپنے تمام شعبے کلی طور پر بجلی پر منتقل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر ہم فی الحال بجلی سے طیارے نہیں اڑا سکتے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والے طیاروں کی ٹیکنالوجی کب تک ایجاد ہو سکے گی۔
لاک ڈاؤن کی پابندیاں لمبے عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتیں، کیونکہ اس سے بے روزگاری، معیشت اور صحت کے ایسے مسائل پیدا ہو جائیں گے جن پر قابو پانا آسان نہیں ہو گا۔ کوئی بھی حکومت لمبے عرصے تک لوگوں کو گھر بٹھا کر وسائل مہیا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
جب بھی عالمی وبا کا زور کم پڑے گا، پابندیاں نرم ہونا شروع ہو جائیں گی اور اس کے بعد معاشی سرگرمیوں کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیز ہو جائے گی۔ اور پھر فضا میں کاربن گیسوں کی سطح وہیں پہنچ جائے گی جس پر ماہرین اپنے خدشات ظاہر کرتے رہتے ہیں۔
لاک ڈاؤن سے ڈیڑھ ارب طالب علم متاثر ہوئے، یونیسکو
یونیسکو کی عہدے دار نے بتایا ہے کہ دنیا بھر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے جن میں تقریباً 74 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ ان میں سے گیارہ کروڑ سے زیادہ لڑکیوں کا تعلق دنیا کے پس ماندہ ملکوں سے ہے، جہاں لڑکیوں کا اسکول جانا ویسے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
گیانینی نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان ان لڑکیوں کو اٹھانا پڑے گا جو پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہی ہیں اور ان کے سکول بھی کیمپوں کے اندر ہیں۔ انہیں دوبارہ سکول بھیجنا مزید مشکل ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے گزشتہ 20 سال میں جو کامیابیاں حاصل کی گئیں ہیں، انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں نصف ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ہم کرونا وائرس کے دنیا پر اقتصادی اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں خواتین کو بہت کم سماجی تحفظ حاصل ہے۔ کرونا وائرس سے معاشی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کی سب سے زیادہ قیمت خواتین کو ادا کرنی پڑے گی، کیونکہ لڑکیوں کی تعلیم کو سب سے زیادہ غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔
یونیسکو کے چھ نکاتی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ٹیچرز اور کمیونیٹنز کو قریب لانا، فاصلاتی طریقہ تعلیم کا فروغ، تحفظ فراہم کرنے کی سروسز کو بڑھاوا دینا اور نوجوانوں کو رابطے میں لانا ہے۔
گیانینی کا کہنا تھا کہ اگرچہ کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش عارضی ہے لیکن پڑھانے کا دورانیہ کم ہونے کا اثر پڑھائی سے حاصل ہونے والی کامیابیوں پر پڑتا ہے۔ جب اسکول بند ہوتے ہیں تو تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسکولوں کی بندش کئی اور مسائل کو بھی جنم دیتی ہے جن میں معاشی پیداوار میں کمی بطور خاص قابل ذکر ہے۔