مساجد میں تین سے پانچ افراد تراویح پڑھ سکیں گے: وزیر اعلٰی سندھ
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر اعلٰی سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے کی مساجد میں رمضان میں صرف تین سے پانچ افراد کو مساجد میں نماز تراویح ادا کرنے کی اجازت ہو گی۔
اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ اُنہیں مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔
خیال رہے کہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور علما کرام کے درمیان طے پانے والے 20 نکاتی معاہدے کے تحت مساجد میں اجتماعی عبادات کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔
لیکن ملک بھر کے ڈاکٹرز نے مساجد میں لوگوں کے اجتماع کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے، اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
دنیا کے مختلف ملکوں میں جمعے کو پہلا روزہ، بڑے اجتماعات پر پابندی
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک، امریکہ اور کینیڈا میں جمعے کو پہلا روزہ ہے جب کہ پاکستان سمیت ایشیا کے دیگر ملکوں میں ہفتے کو پہلا روزہ ہو گا۔
خلیجی ملک مصر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں آج پہلا روزہ ہے۔ عراق، فلسطین، یمن اور لیبیا میں بھی جمعے کو پہلا روزہ رکھا گیا۔
ملائیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا اور فلپائن کی حکومتوں نے بھی جمعرات کی شب چاند کی رویت کا اعلان کیا تھا جہاں نمازِ تراویح کے محدود اجتماعات کے بعد جمعے کو پہلا روز رکھا گیا۔
یورپی ممالک اور امریکہ میں مقیم بیشتر مسلمان سعودی عرب کی تقلید میں رمضان اور عیدین کا تعین کرتے ہیں۔ اس لیے برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں زیادہ تر مسلمانوں کے لیے جمعے کو پہلا روزہ ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کی وجہ سے ماہِ رمضان کے دوران سرگرمیاں محدود رکھنے کے اعلانات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
کیا 'نکوٹین' کرونا سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟
فرانس میں ہونے والی ایک ابتدائی تحقیق کے مطابق 'نکوٹین' لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تجربات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ان تجربات کا مقصد حتمی طور پر یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا 'نکوٹین' کو اس مہلک بیماری کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
نکوٹین تمباکو کے پتوں میں پایا جانے والا کیمیائی مادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے افراد اس کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق پیرس کے ایک اسپتال میں کرونا وائرس کے 343 مریضوں اور وائرس کی معمولی علامات رکھنے والے 139 افراد پر کی گئی۔
تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ظاہر امورا نے بتایا کہ ان مریضوں میں سے صرف پانچ فی صد سگریٹ نوشی کرتے تھے جب کہ فرانس میں تمباکو نوشی کی مجموعی شرح 35 فی صد ہے۔
اس سے ملتی جلتی تحقیق گزشتہ ماہ 'نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن' میں بھی شائع ہوئی تھی۔ جس میں انکشاف ہوا تھا کہ چین میں وائرس کا شکار ہونے والے ایک ہزار افراد میں سے صرف 13 فی صد مریض ایسے تھے جو سگریٹ نوشی کرتے تھے۔ جو چین میں سگریٹ نوشی کی مجموعی شرح 26 فی صد سے بہت کم ہے۔