رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:10 24.4.2020

امریکی انٹیلی جنس اداروں کا چین پر افواہیں پھیلانے کا الزام

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کہا ہے کہ چین نے گمراہ کن پیغامات پھیلائے کہ صدر ٹرمپ کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کرنے والے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ٹیکسٹ میسجز اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے گئے ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جوں ہی امریکی فوجی متعین کردہ مقامات پر پہنچ جائیں گے، صدر ٹرمپ لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیں گے۔

پیغامات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد لوٹ مار اور فسادات کو روکنا ہے۔

یہ پیغامات دو دن کے اندر تیزی سے پھیل گئے تھے اور امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کو ٹوئٹر پر پیغام جاری کرنا پڑا تھا کہ یہ پیغامات جھوٹے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو انتہائی فضول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس قدر گھٹیا ہیں کہ ان کی تردید جاری کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کو امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین نے سخت تکلیف پہنچائی ہے اور ان کے "ناکافی اقدامات" سے بہت سی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا اور اسے روکنے کے لیے چین نے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کو اس کا خمیازہ ادا کرنا پڑے گا۔

23:32 24.4.2020

امریکہ لاطینی امریکہ کے ملکوں سمیت انڈونیشیا اور پاکستان کو وینٹی لیٹرز اور دیگر طبی آلات فراہم کرے گا

ایک ایسے وقت میں، جب کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں پنجے گاڑ دیے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے دن اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ ہنڈوراس، ایکواڈور، انڈونیشیا اور السلواڈور کو وینٹی لیٹر بھیجے گا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ''حالیہ دنوں میں، امریکہ نے متعدد وینٹی لیٹرز بنائے ہیں'' جنھیں ہم ایکواڈور کو بھیجیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ ایکواڈور کی کئی طرح سے مدد کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینٹی لیٹرز اور کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے میں امریکہ ہنڈوراس کے صدر جوہان آرلینڈو ہرناڈیز کی مدد کرے گا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ السلواڈور کو بھی وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری طبی آلات بھیجے گا، تاکہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی تنفس کی تکالیف میں مبتلا مریضوں کی مدد کی جا سکے۔

ٹرمپ نے لاطینی امریکہ کے ان ملکوں کو سراہا جو غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ جانے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ویدودو نے کرونا کے مریضوں کی سانس کی تکالیف دور کرنے میں مدد دینے کے لیے، امریکہ انڈونیشیا کو درکار طبی آلات فرہم کرے گا۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے میکسیکو کو معقول تعداد میں وینٹی لیٹرز دینے کی پیش کش کی تھی، ساتھ ہی انھوں نے ایران کو ایسی ہی مدد کی بھی پیش کش کی۔

اس سے قبل، پاکستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، کرونا کے انسداد کے سلسلے میں امریکہ نے بدھ کے روز وینٹی لیٹرز دستیاب کرنے کی پیش کش کی ہے، ساتھ ہی کرونا ٹیسٹ کے نتائج کم وقت میں تیار کرنے والی مشینیں بھی دی جائیں گی۔

23:38 24.4.2020

کلوروکونین کا استعمال خطرناک ہے، احتیاط کریں

امریکہ کے خوراک اور ادویات سے متعلق ادارے نے ڈاکٹروں کو انتباہ کیا ہے کہ ملیریا کی روک تھام کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات سے کرونا وائرس کا علاج کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات، مثلاً کلوروکین اور اس طرح کی دوسری ادویات کو کرونا وائرس کے خلاف استعمال کرنا چاہیے۔

کئی ملکوں میں ڈاکٹر کلوروکین جیسی ادویات کرونا کے مریضوں کو دے رہے ہیں۔

تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے ضرر رساں سائیڈ ایفکٹس کافی ہیں۔ اور اگر انہیں معالج کی نگرانی کے بغیر استعمال کیا جائے تو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بعض واقعات میں انسداد ملیریا کی دوائیں کرونا کے علاج میں فائدہ مند رہی ہیں۔ لیکن، زیادہ تر واقعات میں ان کے استعمال سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بعض صورتوں میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔

فی الوقت کرونا کی کوئی مستند دوا موجود نہیں ہے اور طبی ماہرین مختلف ادویات کو ملا کر اس کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی ویکسین کے لیے بھی مختلف ملکوں میں ماہرین کام کر رہے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر ایک سال سے زیادہ لگ سکتا ہے، جب کہ اس مہلک وبا کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور دنیا کے زیادہ تر علاقے لاک ڈاؤن کی کیفیت میں ہیں۔

جمعے کے روز فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے عہدے داروں نے خبردار کیا کہ کئی ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ کرونا وائرس کے جن مریضوں کو ہائیڈو آکسی کلوروکین اور اسی قسم کی دوائیں دی گئی تھیں، ان کے انتہائی سنگین سائیڈ ایفکٹس سامنے آئے اور بعض صورتوں میں مریضوں کو جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

کلوروکین سے تعلق رکھنے والی ادویات ایک خاص قسم کی سوزش کے علاج کے لیے بھی منظور شدہ ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں کئی طرح کے سائیڈ ایفکٹس ظاہر ہو سکتے ہیں جن میں سب سے خطرناک دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا بھی شامل ہے۔

02:26 25.4.2020

انٹرنیٹ تک رسائی میں کمی سے کرونا وائرس سے مقابلے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں

کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے جہاں دنیا کے صحت عامہ اور اقتصادی نظاموں کو ایک کڑے امتحان میں ڈال رکھا ہے وہاں اس وبا نے انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہونے میں عدم مساوات کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔

ماہرین کے مطابق، انٹرنیٹ کی رسائی میں یہ تقسیم، جسے عام طور پے ڈیجیٹل ڈیوائڈ کہا جاتا ہے، دنیا کے بہت سے لوگوں کیلئے معلومات کی فراہمی، اقتصادی مواقع، صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق، کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے اس دور میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 55 فیصد صد لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 87 فیصد ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں 47 فیصد اور دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں محض 19 فیصد لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے ماہر، طارق ملک، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ادارے کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل تقسیم دنیا کے لیے اس بحران میں ایک بڑا لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''اگر ہم پاکستان کی صورتحال کو دیکھیں تو حکومت کا احساس پروگرام ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن، معاشی مسائل میں گھرے ہوئے بہت سارے پاکستانی موبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے اس پروگرام سے جلد مستفید نہیں ہو سکتے۔ اور وہ صحت اور معاشی دشواریوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکیں گے''۔

طارق ملک جو پاکستان کے قومی ادارے، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے سابقہ چیئرمین ہیں، کہتے ہیں کہ اس بحران کو ایک موقع سمجھ کر اس حکومت کو اور آنے والی حکومتوں کو ایسے مربوط نظام اور لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو بحران کی صورتحال میں لوگوں کو جلد از جلد ریلیف مہیا کر سکے اور ان کی مناسب دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔

ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس کے بحران سے بہت سے علاقوں میں اسکول مکمل طور پر بند ہیں۔ ایسے میں وہ طلبا و طالبات جنہیں انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر نہیں اپنا قیمتی وقت تعلیم کے حصول لئے صرف نہیں کرسکیں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG