سماجی دوری برقرار رکھتے ہوئے احتجاج
اسرائیل میں حالیہ دنوں میں اتحادی حکومت قائم ہوئی ہے تاہم اس اتحاد کے قیام کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیل میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ایسے میں مظاہرین نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماجی دوری برقرار رکھ کر احتجاج کیا۔
ووہان کے اسپتالوں میں اب کرونا کا کوئی مریض موجود نہیں: چینی حکام
چین کے حکام کا کہنا ہے کہ ووہان کے اسپتالوں میں کرونا وائرس کا اب کوئی مریض موجود نہیں۔
ووہان کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق تازہ ترین خبر یہی ہے کہ ووہان میں کرونا وائرس کا کوئی نیا مریض اسپتال نہیں لایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے قابو پایا گیا ہے جس پر طبی عملے اور ووہان کے رہنے والوں کے شکر گزار ہیں۔
خیال رہے کہ ووہان سے ہی کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا جب کہ یہاں مجموعی طور پر 46 ہزار 452 کیسز سامنے آئے تھے جو کہ چین کے مجموعی کیسز کے 56 فی صد کے برابر ہیں۔
ووہان میں وبا سے 3896 افراد کی موت ہوئی ہے جو کہ چین میں مجموعی طور پر ہونے والی اموات کا 84 فی صد حصہ ہے۔
ووہان شہر چین کے صوبے ہوبے میں واقع ہے یہاں وبا سامنے آتے ہی حکام نے جنوری کے آغاز میں ہی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ جب کہ تمام شاہراہوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ ٹرین اور فضائی سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ دوماہ سے زائد یہ پابندیاں برقرار رہیں جسے بتدریج اب ختم کیا جا رہا ہے۔
ووہان شہر میں پابندیاں کافی حد تک ختم کی جا چکی ہیں تاہم حکام کی جانب سے شہریوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ وبا دوبارہ نہ پھیل سکے۔
خیال رہے کہ چین میں اب تک 82 ہزار 824 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ حکام نے 4632 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
لاک ڈاؤن کھولنا مشکل ترین فیصلہ ہے، دونوں جانب خطرات ہیں
کرونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور دنیا کی بیشتر حکومتوں کے لئے یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب گرتی ہوئی معیشتوں کو سنبھالیں اور معاشی سرگرمیاں شروع کریں یا کرونا وائرس کی دوسری لہر یا اس کے دوبارہ پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری رکھیں۔
ادھر امریکی ریاست نیو یارک میں، جو امریکہ کے اندر کرونا وائرس کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گورنر اینڈریو کومو نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک کے لوگ جلد ہی اپنی فارمیسی یا ادویات کے اسٹور میں کوویڈ 19 کی ٹیسٹنگ کرا سکیں گے۔ اور ریاست کی پانچ ہزار فارمیسیز کو اس کی اجازت ہو گی اور ہدف یہ ہے کہ روزانہ 40 ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے جا سکیں گے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ نیو یارک شہر کے چار اسپتالوں میں ہیلتھ ورکرز کو، جو فرنٹ لائنز پر کام کرتے ہیں، وائرس سے بچاؤ کے لئے اینٹی باڈی ٹیسٹنگ دی جائے گی۔ جب کہ صحت کی عالمی تنظیم یا ڈبلیو ایچ او ہفتے کے روز خبردار کر چکی ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض، جن کے جسمانی نظام میں یہاینٹی باڈیز موجود ہوں، وہ دوبارہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکیں گے۔
دوسری جانب بعض ممالک کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے خطرے کے باوجود اپنی معیشتوں کو کھولنے کے اقدامات شروع کر رہے ہیں۔
ایران نے، جو مشرق وسطی میں اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ہفتے کے روز ماہ رمضان کے آغاز پر کرونا وائرس کے تازہ پھیلاؤ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
ایران کی متعدی امراض کی وزارت نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی اور وسطی صوبوں میں اس مرض کے تازہ پھیلاؤ کے شواہد ملے ہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ ایران خود اپنے ہاں کاروباروں کو کھولنے کے کام کا آغاز کر رہا ہے۔
ادھر یہاں امریکہ میں بھی ریاست جارجیا اور اوکلاہاما میں معشیت کا پہیہ چلانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے، جنہوں نے ابتدا میں معیشت کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات کی حمایت کی تھی، اب جارجیا کے معیشت دوبارہ کھولنے کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
امریکی امور کے ایک تجزیہ کار مسعود ابدالی نے کہا ہے حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ ایک بہت مشکل فیصلہ ہے کیونکہ ڈاکٹر فاؤچی کے بقول اگر اس وقت احتیاط سے کام نہیں لیا گیا تو کرونا کے خلاف جنگ میں جو کچھ اب تک حاصل کیا گیا ہے وہ سب ضائع ہو جائے گا۔
حکومت اور علما کا معاہدہ بے اثر، وائرس پھیلنے کی خدشات بڑھ گئے
پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اس مرض سے اموات کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ کچھ لوگ متاثرین کی تعداد بڑھنے کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اب مرض کی بہتر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے اور وہ مریض بھی سامنے آ رہے ہیں جو اب تک ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا سبب رمضان کی خریداری کی گہما گہمی ہے جس کے دوران سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ دوسرا گلیوں محلوں کی مساجد میں ہونے والے رمضان کے اجتماعات ہیں اور اس بارے میں حکومت اور علما کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر درست طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے صدر مملکت نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے، جن کا یہ معاہدہ کروانے میں اہم کردار تھا۔ دوسری جانب علما کا مؤقف ہے کہ معاہدے پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
ممتاز تجزیہ کار سلمان عابد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر بظاہر پوری طرح عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ رمضان کی خریداری کے لیے نکلتے ہیں، وہ سماجی فاصلے کا بالکل خیال نہیں رکھ رہے اور یہ بہت خطرناک صورت حال ہے جس سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کو خود بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہو گا۔