بے روزگار افراد کی رجسٹریشن کے لیے ویب سائٹ قائم کرنے کا اعلان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت احساس پروگرام کی طرز پر بے روزگار افراد میں بھی رقوم تقسیم کرے گی۔
ہفتے کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وبا کے دوران بے روزگار ہونے والے افراد ویب سائٹ پر اپنا اندراج کرائیں۔ بے روزگار افراد کو یہ بتانا ہو گا کہ وہ کہاں کام کرتے تھے۔
عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت چھوٹا کاروبار امدادی پیکج بھی لا رہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششوں کہ وہ خود نگرانی کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان لمبے عرصے تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امیر سے امیر ملک بھی لاک ڈاؤن کے منفی اثرات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
فلپائن نے کرونا وائرس کے پیش نظر 10 ہزار قیدی رہا کر دیے
فلپائن کی سپریم کورٹ کے ایک عہدے دار نے ہفتے کے روز بتایا کہ گنجائش سے زیادہ بھری جیلوں کو کرونا وائرس کے خطرے سے بچانے کے لیے 10 ہزار سے زیادہ قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس، ماریو وکٹر لیونین نے صحافیوں کو بتایا کہ نچلی عدالتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ جیلوں میں بند ان قیدیوں کو رہا کر دیں جو اپنے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی ضمانت کرانے کے لیے رقم نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالت ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کی صورت حال سے آگا ہ ہے۔ لیونین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے 9731 قیدیوں کو رہائی مل جائے گی۔
فلپائن کے کچھ حصوں کی جیلوں میں کرونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات ہیں جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ ان جیلوں میں وائرس قیدیوں اور جیل کے عملے کے ارکان دونوں میں ہی منتقل ہوا ہے۔
فلپائن کی جیلوں میں سماجی فاصلے پر عمل ناممکن ہے، کیونکہ وہ اکثر اوقات ان کوٹھڑیوں میں، جہاں ایک قیدی رکھا جانا چاہیے، پانچ پانچ قیدیوں کو ٹھونسا جاتا ہے۔
ملک کی جیلوں میں صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کی جانب سے 2016 میں منشیات کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد کی گرفتاریوں سے جیلوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑا ہے۔
ملک میں سب سے زیادہ بری حالت منیلا کے مضافاتی علاقے کوینزون سٹی جیل کی ہے جہاں بہت سے قیدیوں کو سیڑھیوں اور کھلے آسمان تلے باسکٹ بال گراؤنڈ میں سونا پڑتا ہے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی جزیرے سیبو کی دو جیلوں میں حالت اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ 8000 قیدیوں میں سے 348 کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔
قیدیوں میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کے بعد انسانی حقوق کے گروپس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان قیدیوں کو فوری رہا کرے، جو بوڑھے اور بیمار ہیں یا جو معمولی جرائم پر سزا بھگت رہے ہیں۔
فلپائن میں ہفتے کے روز تک کرونا وائرس کے 9000 کے لگ بھگ مریض تھے اور 603 اموا ت ہو چکی تھیں۔
کرونا وائرس نے بنگلہ دیش میں لاکھوں خواتین کو بے روزگار کر دیا
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سلے سلائے کپڑوں کی صنعت سے وابستہ لگ بھگ 20 لاکھ کارکنوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر آرڈر منسوخ ہونے سے ہزاروں گارمنٹ فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور کارکنوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ گارمنٹ فیکٹریوں میں زیادہ تر خواتین کام کرتی ہیں۔
بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا بھر میں سلے سلائے کپڑوں کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔ بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات 32 ارب ڈالر ہیں جن میں گارمنٹس کا حصہ 83 فی سے زیادہ ہے۔
بنگلہ دیش میں گارمنٹس کے چھوٹے بڑے 5 ہزار کے قریب یونٹس ہیں جو 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ کارکنوں کی اوسط ماہانہ اجرت 100 ڈالر سے قدرے زیادہ ہے۔ گارمنٹ انڈسٹری کے پھلنے پھولنے سے بنگلہ دیش میں غریبی کم کرنے میں مدد ملی ہے اور بہت سے لوگوں کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوا ہے۔
فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگار ہونے والی خواتین بہت پریشان ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے بچوں کو خوراک مہیا کرنا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کب تک جاری رہتا ہے اور کب مارکیٹیں کھلتی ہیں اور فیکٹریوں کو آرڈر ملنا شروع ہوتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں سماجی فاصلوں اور دیگر حفاظتی انتظامات کے تحت گارمنٹ انڈسٹری کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے اور لگ بھگ دو لاکھ کارکن اپنے کام پر واپس آ چکے ہیں۔ لیکن، فیکٹریوں میں پوری سطح پر کام شروع نہیں ہو سکا، جس کی وجہ بیرونی آرڈرز کی بڑے پیمانے پر منسوخی ہے۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری زیادہ تر یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں کے لیے کام کرتی ہے جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ اور انہوں نے اپنے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، منسوخ ہونے والے آرڈرز کی مالیت 3 ارب ڈ الر سے زیادہ ہے۔
کئی فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ منسوخ ہونے والے بعض آرڈر مکمل ہو چکے تھے اور صرف انہیں بھیجنا باقی رہ گیا تھا۔ بہت سے آرڈرز پر کام ہو رہا تھا اور وہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھے، بہت سے آرڈرز کے لیے کپڑا اور دوسرا سامان خریدا جا چکا تھا، مگر 72 فی صد سے کمپنیوں نے اس کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے پاس تالہ لگانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹس کے شعبے کے متاثرین کے لیے 588 ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس پر 2 فی صد سود لیا جائے گا۔ گارمنٹ انڈسٹری نے اسے ناکافی قرار دے کر کہا ہے کہ اس رقم سے محض ایک مہینے کی تنخواہیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد کئی فیکٹریوں میں کام شروع ہو گیا ہے مگر بہت سے کارکن اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انہیں وائرس نہ لگ جائے؛ کیونکہ، اکثر فیکٹریاں بہت چھوٹی جگہوں پر قائم ہیں اور کام کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔
بنگلہ دیش میں ہفتے کے روز تک تقریباً 8800 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی اور اموات کی تعداد 175 تھی۔
کرونا ویکسن کی عدم دستیابی سے دنیا میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔
کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے طور پر ذرائع آمد و رفت بند ہیں یا بہت محدود ہیں اور اس کی وجہ سے بیشتر ترقی پذیر ملکوں تک ویکسین کی ترسیل ممکن نہیں رہی۔
ان ملکوں کا پہلے سے جمع شدہ سٹاک ختم ہو رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو پانچ سال سے کم عمر بچوں کی انتہائی ضروری ویکسین نہیں مل سکے گی۔
یونیسیف کی اطلاع کے مطابق، اس نے پچھلے سال اس ویکسین کے ڈھائی ارب ڈوزیز جمع کیے تھے۔ مگر لاک ڈوان کی وجہ سے جہاز رانی بہت محدود ہے اور ان کے ذریعے ان کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔
یہ ویکسین تقرباً سو ملکوں کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے مختص تھی جو ان ملکوں کی 45 فی صد ضرورتیں پورا کرنے کے لیے کافی تھی۔
مگر اب اِن حالات میں درجنوں ملکوں میں یہ ویکسین ختم ہو چکی ہے، خاص طور سے افریقہ میں ذیلی صحارا کے ملکوں میں ان بچوں کی صحت خطرے میں ہے۔
یونیسیف کی ترجمان میریکسی میر کاڈو نے کہا ہے کہ بحری جہازوں نے مال برداری کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے۔
چارٹر طیاروں سے بھیجنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کے کرائے ایک سو سے دو سو گنا زیادہ ہیں۔ غریب ملکوں کے پاس اتنے زیادہ وسائل نہیں کہ وہ انہیں اتنے مہنگے داموں خرید سکیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ بچے خسرہ اور پولیو جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہوں گے۔
دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہے، جو اس سال اور اگلے سال متاثر ہو سکتے ہیں۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اکثر مقامات پر پولیو کی مہم روک دی گئی ہے کیوں کہ وسائل ان کی اجازت نہیں دیتے۔
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔ ادارے نے نجی شعبے اور ایئر لائینز کی صنعت سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین کی سستے داموں ترسیل کے بندوبست میں ان کی مدد کریں۔