رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:04 9.5.2020

کوئٹہ میں27 میڈیا ورکرز کرونا وائرس کا شکار

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کام کر نے والے دو درجن سے زائد صحافی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد دو نیوز چینل کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں۔

بلوچستان یونین اف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ صحافی بھی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن پر کام کر تے ہیں۔ لہذا وہ بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے صحافیوں نے اپنے گھروں میں آئسولیشن اختیار کر لی ہے۔

17:24 9.5.2020

17:26 9.5.2020

پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔

پاکستانی کشمیر میں اب تک 2780 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 2668 کے رزلٹ آ چکے ہیں۔ 86 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جن میں سے 62 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

مختلف اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ 24 مریض زیرِ علاج ہیں۔

18:10 9.5.2020

رپورٹرز ڈائری: 'عید کا جوڑا نہیں چاہیے، بس راشن دے دیں'

یہ رمضان گزشتہ رمضان کی نسبت خاصا مختلف ہے۔ نہ کوئی رونق ہے نہ کوئی سرگرمی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اثر اب ذہنوں پر اتنا ہے کہ اس مہینے کی پرجوش روایتیں کچھ ماند سی پڑ گئی ہیں۔

بازار بند ہیں تو گہما گہمی، عید کی تیاری کا جوش اور ولولہ بھی اب نظر نہیں آتا۔ گزشتہ برس ان ہی دنوں میری درزی سے اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اب وہ مزید کوئی سوٹ کیوں نہیں سی سکتا کیوں کہ اس کے بقول تو 10 رمضان تک بکنگ بند ہوگئی تھی۔

اب یہ حال ہے کہ درزی کا روز ہی فون آ رہا ہے کہ کوئی سوٹ ہے تو دے دیں تاکہ میں کچھ کما سکوں۔ لاک ڈاؤن سے دکان بند ہے اور گھر کا چولہا چلانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

ان حالات میں کیا عید منائیں؟ لیکن ہر ایک کی ضرورت تو ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ سو یہ سوچ کر کہ عید پر نہ سہی، جب یہ وبا ختم ہو گی تب نئے کپڑے پہن کر اپنے پیاروں اور عزیزوں کے ہمراہ کہیں باہر جانا تو ہوگا، ایک دو نئے جوڑے سلوانے میں کوئی حرج نہیں۔

چلو مشہور برانڈ نے تو کپڑوں کی سیل کے ساتھ آن لائن ڈلیوری کا سلسلہ جاری رکھا ہی ہے۔ پر وہ کپڑے جو ملتے ہی دکان پر ہیں یا کسی برانڈ کے نہیں، میچنگ ہے یا کوئی دوپٹہ، وہ کیسے آن لائن منگوائے جائیں؟

وہ دکان دار جو رمضان کا سارا سال انتظار کرتے تھے کہ اس ماہ وہ کوئی اسٹال لگائیں یا کوئی بھی مال بیچیں گے تو خوب منافع ہو گا۔ وہ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ نہ جانے ان کا گزارہ کیسے ہو رہا ہو گا؟

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG