کوئٹہ میں27 میڈیا ورکرز کرونا وائرس کا شکار
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کام کر نے والے دو درجن سے زائد صحافی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد دو نیوز چینل کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں۔
بلوچستان یونین اف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ صحافی بھی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن پر کام کر تے ہیں۔ لہذا وہ بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے صحافیوں نے اپنے گھروں میں آئسولیشن اختیار کر لی ہے۔
پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔
پاکستانی کشمیر میں اب تک 2780 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 2668 کے رزلٹ آ چکے ہیں۔ 86 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جن میں سے 62 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
مختلف اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ 24 مریض زیرِ علاج ہیں۔
رپورٹرز ڈائری: 'عید کا جوڑا نہیں چاہیے، بس راشن دے دیں'
یہ رمضان گزشتہ رمضان کی نسبت خاصا مختلف ہے۔ نہ کوئی رونق ہے نہ کوئی سرگرمی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اثر اب ذہنوں پر اتنا ہے کہ اس مہینے کی پرجوش روایتیں کچھ ماند سی پڑ گئی ہیں۔
بازار بند ہیں تو گہما گہمی، عید کی تیاری کا جوش اور ولولہ بھی اب نظر نہیں آتا۔ گزشتہ برس ان ہی دنوں میری درزی سے اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اب وہ مزید کوئی سوٹ کیوں نہیں سی سکتا کیوں کہ اس کے بقول تو 10 رمضان تک بکنگ بند ہوگئی تھی۔
اب یہ حال ہے کہ درزی کا روز ہی فون آ رہا ہے کہ کوئی سوٹ ہے تو دے دیں تاکہ میں کچھ کما سکوں۔ لاک ڈاؤن سے دکان بند ہے اور گھر کا چولہا چلانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
ان حالات میں کیا عید منائیں؟ لیکن ہر ایک کی ضرورت تو ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ سو یہ سوچ کر کہ عید پر نہ سہی، جب یہ وبا ختم ہو گی تب نئے کپڑے پہن کر اپنے پیاروں اور عزیزوں کے ہمراہ کہیں باہر جانا تو ہوگا، ایک دو نئے جوڑے سلوانے میں کوئی حرج نہیں۔
چلو مشہور برانڈ نے تو کپڑوں کی سیل کے ساتھ آن لائن ڈلیوری کا سلسلہ جاری رکھا ہی ہے۔ پر وہ کپڑے جو ملتے ہی دکان پر ہیں یا کسی برانڈ کے نہیں، میچنگ ہے یا کوئی دوپٹہ، وہ کیسے آن لائن منگوائے جائیں؟
وہ دکان دار جو رمضان کا سارا سال انتظار کرتے تھے کہ اس ماہ وہ کوئی اسٹال لگائیں یا کوئی بھی مال بیچیں گے تو خوب منافع ہو گا۔ وہ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ نہ جانے ان کا گزارہ کیسے ہو رہا ہو گا؟