رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

22:19 12.5.2020

پاکستان میں کرونا وائرس کے 32 ہزار مریض، 724 ہلاکتیں

پاکستان میں منگل کو کرونا وائرس کے مزید 593 مریضوں کی تصدیق ہوئی جبکہ اس میں مبتلا 18 افراد دم توڑ گئے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 724 ہوگئی ہے جن میں خیبرپختونخوا کے 257، سندھ کے 218، پنجاب کے 211، بلوچستان کے 27، اسلام آباد کے 6 اور، گلگت بلتستان کے 4 اور آزاد کشمیر کا ایک مریض شامل ہے۔

بدھ کو کرونا وائرس کے لگ بھگ 11 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک ملک بھر میں 3 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 32674 مثبت آئے ہیں۔

اب تک ملک میں 8555 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے 4452، سندھ کے 2149، خیبرپختونخوا کے 1256، گلگت بلتستان کے 320، بلوچستان کے 242، اسلام آباد کے 72 اور آزاد کشمیر کے 64 شہری شامل ہیں۔

01:53 13.5.2020

پاکستان سے افغانستان برآمدات میں مشکلات، تاجروں کو نقصان کا اندیشہ

پاکستان کے راستے افغانستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ اور دونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت کو کرونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں نقصان پہنچ رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان کے تاجر مایوس ہو کر دیگر تجارتی راستوں کے تلاش میں ہیں بلکہ اس سے پاکستان کے تاجروں اور کمیشن ایجنٹوں کو بھی نقصان کا سامنا ہے۔

اپریل کے آغاز میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے افغان حکومت کی درخواست پر طورخم کی سرحدی گزرگاہ کو ٹرانزٹ ٹریڈ، اتحادی افواج کے سامان کی رسد اور پاکستان سے برآمدات کے لیے مشروط طور پر کھول دیا تھا۔

ہفتے میں صرف تین دن یومیہ 100 ٹرکوں کو پاکستان سے افغانستان جانے کی اجازت دی گئی جب کہ افٖغانستان سے پاکستان کے لیے درآمدات پر ابھی بھی پابندی عائد ہے۔

لاک ڈاؤن کے خاتمے پر اب ہفتے میں تین دن کے بجائے پانچ دن طورخم کے راستے سے افغانستان کے برآمدات شروع کی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیے

02:01 13.5.2020

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو بھی فی گھرانہ 12 ہزار روپے ملیں گے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کرونا وائرس کے باعث پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں امدادی رقوم کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت یو این ایچ سی آر حکومتِ پاکستان کے تعاون سے کرونا کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا سامنے کرونے والے 36 ہزار افغان مہاجرین گھرانوں کی مالی مدد کرے گا۔

یہ امدادی رقوم پاکستان پوسٹ کے ذریعے افغان مہاجرین تک پہنچا ئی جائے گی ۔اس مقصد کے لیے منگل کو اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران اقوا م متحدہ کے پاکستان میں نائب نمائندے آئن ہال اور پاکستان پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل اخلاق احمد نے افغان مہاجرین کو ہنگامی امداد کی پاکستان پوسٹ کے ذریعے تقسیم کرنے کے معاہدے پر دستخظ کیے۔

اس موقع پر پاکستان کے ریاستی و سرحدی امور کے وفاقی وزیر صاحبزادہ محمود سلطان بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیے

02:03 13.5.2020

کاروبار کھولنے میں جلدی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر فاؤچی

وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن اور وبائی امراض کے قومی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ کاروبار کھولنے میں جلدی کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات منگل کو امریکی ایوان بالا کی کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں کہی۔ ڈاکٹر فاؤچی، ٹاسک فورس کے دوسرے ارکان اور کئی سینیٹرز نے ویڈیو لنک پر اس غیر معمولی اجلاس کی کارروائی میں حصہ لیا۔

13 مارچ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹر فاؤچی کانگریس کے کسی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے سربراہ اسٹیفن ہان، سینٹر فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ اور محکمہ صحت کے اسسٹنٹ سیکریٹری بریٹ گروئیر نے بھی سوالات کے جواب دیے۔

سینیٹر لیمار نے پہلا سوال کیا کہ کیا ہمارے طالب علم موسم خزاں میں کالج جا سکیں گے؟ ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ اس وقت تک ویکسین کا بننا بہت مشکل ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG