امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اعلان کردہ تعداد سے یقینی طور پر زیادہ ہے: ڈاکٹر فاؤچی
وائٹ ہاؤس میں صحت سے متعلق اعلیٰ ترین مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اعلان کردہ 81000 سے یقینی طور پر کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے امریکی ریاستوں کو خبردار کیا کہ کاروبار کھولنے میں عجلت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے سینیٹ میں اس وبا سے نمٹنے کے بارے میں امریکی حکومت کی حکمت عملی کی تحقیقات کرنے والے پینل کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھر میں اور خاص طور پر نیویارک میں بہت سے افراد اپنے گھروں میں چل بسے تام ان کی ہلاکتوں کو مجموعی تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ایسے کیسز کے بارے میں کوئی واضح تعداد نہیں بتائی۔
ڈاکٹر فاؤچی نے خبردار کیا کہ ستمبر سے نومبر کے دوران کرونا وائرس کی وبا شدید تر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس وقت تک حکومت اس وبا سے نمٹنے میں زیادہ مہارت حاصل کر لے گی۔
امریکہ کی بیشتر ریاستوں کے گورنر اسٹورز، ریستوران اور دفاتر کو سماجی فاصلے کی پابندیوں کے ساتھ کھولنے کی اجازت دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
تاہم ڈاکر فاؤچی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کرتے وقت حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو اس بات کا حقیقی خطرہ موجود ہے کہ یہ وبا کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے آٹھ مختلف اقسام کی ویکسینز کی تیاری کا کام جاری ہے جب کہ یہ بات اس سال موسم خزاں یا سردیوں کے دوران ہی معلوم ہو سکی گی کہ ویکسین کی تیاری میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔
'افغانستان میں کرونا وائرس ابھی اپنی انتہا کی طرف بڑھ رہا ہے'
افغانستان کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 259 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی کل تعداد 5226 ہو گئی ہے۔
صحت کے نائب وزیر ڈاکٹر واحد اللہ مجروح نے کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 132 بتائی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ لاک ڈاؤن کو جلد ختم کرنا مناسب نہ ہوگا کیوں کہ کرونا وائرس ابھی اپنی انتہا کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے 35 ہزار مریض، 761 اموات
پاکستان میں بدھ کو کرونا وائرس کے مزید 962 مریضوں کی تصدیق ہوئی جبکہ اس میں مبتلا 24 افراد دم توڑ گئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 761 ہوگئی ہے جن میں خیبرپختونخوا کے 275، سندھ کے 234، پنجاب کے 214، بلوچستان کے 27، اسلام آباد کے 6، گلگت بلتستان کے 4 اور آزاد کشمیر کا ایک مریض شامل ہے۔
بدھ کو کرونا وائرس کے لگ بھگ 12 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک ملک بھر میں 3 لاکھ 17 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 35298 مثبت آئے ہیں۔
سندھ میں کیسز کی تعداد 13341، پنجاب میں 13225، خیبرپختونخوا میں 5252، بلوچستان میں 2158، اسلام آباد میں 759، گلگت بلتستان میں 475 اور آزاد کشمیر میں 88 ہے۔
اب تک ملک میں 8899 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے 4531، سندھ کے 2229، خیبرپختونخوا کے 1392، گلگت بلتستان کے 331، بلوچستان کے 256، اسلام آباد کے 92 اور آزاد کشمیر کے 68 شہری شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خوراک کی قلت
برسہا برس سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ لڑائیوں، سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی مسائل کا شکار ہے اور اب یہ علاقہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں بھی آ گیا ہے، جس نے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے علاقے کے تقریباً 70 لاکھ مزید افراد بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔ اس اضافے کے بعد اب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں چار کروڑ ستر لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے مسلسل انتباہ کرتے آ رہے ہیں کہ ان علاقوں کی کمزور حکومتیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں یا اس کے اثرات برداشت کر سکیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے عالمی بحران کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں جو علاقے بھوک اور خوراک کی قلت کا شکار ہیں ان میں سے 20 فی صد آبادی کا تعلق مشروق وسطیٰ سے ہے۔
ادارے کی ترجمان، الزبتھ بائیر نے بتایا ہے کہ اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ عالمگیر وبا ان علاقوں میں بھوک اور خوراک کی قلت کے مسئلے کو دو چند کر دے گی۔ تھوڑا بہت کھانا جو یہاں میسر تھا وہ بھی ناپید ہو رہا ہے جب کہ روزی کمانے کے وسائل گھٹتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس نہ کوئی بچت ہے، نہ انہیں بے روزگاری الاونس ملتا ہے اور نہ انہیں مفت خوراک مل سکتی ہے۔ محنت مزدوری کر کے یہ لوگ جو تھوڑا بہت کما لیتے تھے اس کے دروازے بھی کرونا وبا نے بند کر دیے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام اس وقت علاقے کے 23 لاکھ افراد کو خوراک کی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اس کا دو تہائی حصہ یمن اور شام کے عوام کو ملتا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے کے گیارہ ملکوں کے 38 لاکھ بچوں کو سکولوں میں کھانا فراہم نہیں کیا جاتا، اس طرح ان بچوں کو صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہے۔