رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:33 14.5.2020

کرونا وائرس سے اموات 3 لاکھ سے بڑھ گئیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 44 لاکھ اور اموات کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز برازیل اور میکسیکو میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکہ میں ایک کروڑ شہریوں کے ٹیسٹ کر لیے گئے ہیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 213 ملکوں اور خود مختار خطوں میں بدھ تک کرونا وائرس کے 44 لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آچکے تھے۔ افریقی ملک لیسوتھو میں پہلے مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان دونوں ذرائع کے مطابق، دنیا میں اموات کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار ہے۔ لیکن انھوں نے ابھی تک برطانوی محکمہ شماریات کے تازہ اعدادوشمار کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جس کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار زیادہ ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں برازیل میں 745، برطانیہ میں 494، میکسیکو میں 353، اٹلی میں 195، اسپین میں 184، سویڈن میں 147، بھارت میں 136، کینیڈا میں 132، جرمنی میں 121 اور پرو میں 112 مریض دم توڑ گئے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ایک دن پہلے برازیل میں 881 ہلاکتیں ہوئیں جو ایک دن کا نیا ریکارڈ ہے۔ میکسیکو میں 353 اموات بھی ایک دن کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

امریکہ میں بدھ کی شام تک 1500 سے زیادہ اموات رپورٹ ہوچکی تھیں۔ اس طرح کل تعداد 85 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ ملک میں ایک کروڑ 2 لاکھ ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں 14 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ مثبت آئے ہیں۔

کولوراڈو امریکہ کی 16ویں ریاست ہے جہاں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ریاست نیویارک کے 27 ہزار اور نیوجرسی کے 9700 سے زیادہ شہری موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں جہاں یہ 31 ہزار ہو چکی ہے۔ اسپین اور فرانس میں 27 ہزار اور برازیل میں 12700 سے زیادہ شہری وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ میں بدھ تک 3 لاکھ سے زیادہ افراد وائرس سے شفایاب ہوچکے تھے۔ اسپین میں یہ تعداد ایک لاکھ 83 ہزار، جرمنی میں ایک لاکھ 48 ہزار، اٹلی میں ایک لاکھ 12 ہزار اور ترکی میں ایک لاکھ ہے۔

12:05 14.5.2020

کرونا وائرس: خوراک کی کمی کے سبب دو پانڈا کینیڈا سے چین روانہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کینیڈا کے شہر کالگری سے دو پانڈا قبل از وقت چین بھجوا دیے گئے ہیں کیوں کہ کرونا وائرس کے باعث ان کی خوراک کی ترسیل متاثر ہو رہی تھی۔

عالمی وبا کے پھیلاؤ سے قبل چین سے کالگری تک براہ راست پرواز سے پانڈا کی خوراک کے لیے بانس بھجوائے جاتے تھے۔ لیکن جب سے مختلف ملکوں میں فضائی سفر اور سرحدی بندشیں عائد کی گئی ہیں، پانڈا کی خوراک کے لیے بانس کی ترسیل مشکل ہو گئی تھی۔

پروازوں میں تاخیر کے سبب کالگری کے چڑیا گھر میں رہنے والے ان پانڈا کو تازہ خوراک نہیں مل رہی تھی، لہٰذا انتظامیہ نے انہیں واپس چین بھجوا دیا گیا ہے۔

12:06 14.5.2020

سوشل ڈسٹینسگ پر عمل درآمد سے فضائی سفر کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دبئی ایئرپورٹ کے چیف ایگزیکٹو پال گرفتھس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوشل ڈسٹینسنگ کی ہدایات پر عمل کیا تو فضائی سفر کے اخراجات اور کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایئرلائنز سوشل ڈسٹینسنگ کی پابندیوں پر عمل کرانے کے لیے محدود مسافروں کو لے کر جائیں گی اور لوگوں کے درمیان فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے کم ٹکٹس فروخت کریں گی تو اس کا نتیجہ لامحالہ کرایوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی ویکسین، علاج یا کرونا ٹیسٹنگ کا فوری طریقہ سامنے نہیں آ جاتا، تب تک ان احتیاطی پابندیوں کو نافذ رکھنا لازم ہے تاکہ عالمی وبا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

13:01 14.5.2020

اسپین سے تین پاکستانیوں کی میتیں لاہور پہنچ گئیں

حکومتِ پاکستان نے بیرون ملک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس لانے کی اجازت دے دی ہے۔ جس کے بعد اسپین سے کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے تین افراد کی میتیں آج لاہور پہنچ گئیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گزشتہ روز نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ جس کے مطابق میت منتقلی کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایس او پیز پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔

ایس او پیز میں میت کی منتقلی کے لیے سیل شدہ تابوت کے علاوہ میت کی منتقلی پر مامور عملے کے لیے ڈس انفیکشن سمیت حفاظتی اقدامات ہر صورت کرنا ہوں گے۔

بیرون ملک سے میت مسافر طیارے کے کارگو یا کارگو طیارے میں لائی جا سکے گی۔ میت پاکستان لانے سے پہلے ایئر لائن سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 48 گھنٹے پہلے آگاہ کرے گی۔

متعلقہ عملے کو حفاظتی سوٹ، ماسک، گلوز، عینک، فیس شیلڈ لازمی پہننا ہوں گے۔

منتقلی کے لیے میت کو مخصوص کیمیکل لگانے اور کپڑے سے لپیٹنا بھی ضروری ہو گا۔ میت منتقلی کے لیے متعلقہ مردہ خانے اور متعلقہ ملک سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی لازمی ہو گا۔ دستاویزی کارروائی پر مبنی تمام ریکارڈ کا دستی یا بذریعہ ای میل فراہم کرنا بھی ضروری ہو گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG