- By مدثرہ منظر
کرونا وائرس کی وبا میں سفید جوتے اور وائٹ ہاؤس
چھ مئی کی صبح امریکی دارالحکومت میں وہائٹ ہاؤس کے سامنے سرخ اینٹوں کی راہداری پر سفید رنگ کے جوتوں کے درجنوں جوڑے ترتیب سے رکھے تھے جو دور تک نظر آرہے تھے۔
جوتوں کے یہ اسّی جوڑے ان نرسوں نے اپنے ساتھیوں کی یاد میں رکھے تھے جو وہائٹ ہاؤس کے سامنے اپنے ان ساتھیوں کو خراج پیش کرنے کیلئےجمع ہوئی تھیں، جنہوں نے کرونا وائرس کی وبا میں خدمات انجام دیتے ہوئے اسی وباء کے ہاتھوں جان کی بازی ہار دی۔
امریکہ میں چھ مئی کو نرسوں کا قومی دن منایا گیا۔ یہ دن نرسوں کے ہفتے کا آغاز بھی تھا اور 12 مئی، اس ہفتے کا آخری دن۔ فلورنس نائٹنگیل کا جنم دن بھی، وہ انگلش نرس جنہوں نے نرسنگ کے پیشے کی بنیاد رکھی اور جو رات کو اپنے راؤنڈ کی وجہ سے 'لیڈی ود دی لیمپ' بھی مشہور ہوئیں۔
اس موقعے پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ یہ اس فرض کی ادائیگی ہے جو دوسروں کی بے لوث خدمت سے متعلق ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔
کرونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا بھر میں نرسنگ کے پیشے کی اہمیت جس طرح محسوس کی گئی شاید اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی اور یقیناً اس وقت جب پوری دنیا کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ہسپتالوں میں نرسیں ایک سہارا بن گئی ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں کی ایسے میں دیکھ بھال کر رہی ہیں جب ان کے اہلِ خانہ ان کے قریب نہیں جا سکتے۔
نیدرلینڈز میں ایک کتا اور تین بلیاں کرونا وائرس سے متاثر
نیدرلینڈز کے حکام نے کہا ہے کہ ایک کتے اور تین بلیوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ملک میں پالتو جانوروں کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے اولین واقعات ہیں۔
وزیر زراعت کیرولا شاؤٹن نے پارلیمان کو تحریری طور پر اس بارے میں آگاہ کیا۔ کتے کے بارے میں خیال ہے کہ اسے اپنے مالک سے وائرس لگا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ پالتو جانوروں کے مالک اس مشورے پر عمل کریں: کرونا وائرس کے مریض احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے جانوروں سے دور رہیں۔ جو پالتو جانور بیمار ہوں انھیں جس حد تک ممکن ہو، گھر کے اندر رکھا جائے۔
دنیا بھر میں لاکھوں انسان کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں، لیکن اس وبا سے چند ایک ہی جانور متاثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس کے حملے میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نیدرلینڈز کے قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں جانوروں سے انسانوں کو وائرس لگنے کا خدشہ بہت کم ہے۔
گزشتہ ماہ ملک کے جنوب میں ایک فارم پر متعدد منکس کو کرونا وائرس میں مبتلا پایا گیا تھا۔ منک اود بلاؤں کی قسم کا ممالیہ جانور ہوتا ہے۔
کیرولا شاؤٹن نے بتایا کہ اس فارم کے قریب رہنے والی گیارہ بلیوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ تین میں وائرس کی اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ انھیں وائرس لگا تھا لیکن وہ صحت یاب ہوچکی ہیں۔
اسی طرح ایک شخص کے 8 سال کے پالتو امریکن بل ڈاگ کو سانس لینے میں دشواری پر جانچا گیا۔ اس کے خون کا نمونہ لیا گیا تو ظاہر ہوا کہ اس میں بھی وائرس کی اینٹی باڈیز پیدا ہوچکی تھیں۔
اس سے پہلے کئی ملکوں میں بلیاں، شیر اور کتے کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ فروری میں ہانگ کانگ میں ایک شخص کے بیمار ہونے کے بعد اس کا کتا بھی وائرس سے متاثر ہوگیا تھا۔
بیلجئم میں سکول کھل گئے، ماسک اور ٹمپریچر جانچنے کی پابندی
یورپ کے ملک بیلجئم میں جمعے کے روز دو مہینوں سے جاری لاک ڈاؤن کے بعد جمعے کے روز سکول کھل گئے اور بچوں کو ماسک لگائے، بیگ اٹھائے سکول جاتے دیکھا گیا۔
بیلجئم ایک کروڑ 15 لاکھ آبادی کا ملک ہے۔ اور یہ یورپی اقوام میں کرونا وائرس سے بری طرح متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔ بیلجئم نے مئی کے آغاز سے ہی بتدریج لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانا شروع کر دیں تھیں۔ تعلیمی اداروں کا کھولنا پابندیاں نرم کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔
پرائمری اور سیکنڈری سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فائنل ایئر کی کلاسیں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ مگر انہیں سماجی فاصلے قائم رکھنے، ماسک پہننے اور ٹمپریچر باقاعدگی سے جانچنے کی سختی سے پابندی کرنا ہو گی۔ اور یہ کلاسیں محدود طالب علموں کے ساتھ شروع کی جا سکیں گی۔ کلاسوں کا آٖغاز اگلے ہفتے سے ہو گا۔ تاہم، کئی سکولوں نے ریہرسل کے طور پر جمعے کے روز اپنے طالب علموں کو بلایا تھا۔
برسلز میں واقع نیلی میلبا پرائمری سکول کی سات سالہ طالبہ لینا جب سکول پہنچی تو ایک ٹیچر نے، جس نے سفید ماسک پہنا ہوا تھا، سکول کے احاطے میں داخل ہونے سے قبل اس کا درجہ حرارت چیک کیا۔ جب کہ دوسری ٹیچر نے اسے زمین پر لگائے گئے نشانات کے متعلق بتایا، جن کا مقصد سماجی فاصلہ قائم رکھنا ہے۔
لینا کی والدہ وانسا ڈیل کارپیو نے، جو اسپتال میں کام کرتی ہے، بتایا کہ میری بیٹی سکول جانے پر بہت خوش ہے، کیونکہ لمبے عرصے سے وہ اپنی دوستوں اور ٹیچر سے نہیں مل سکی تھی۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ وہ اتنی چھوٹی ہے کہ اس سے ماسک پہنا نہیں جاتا۔ لیکن اس کی صحت ٹھیک ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ اگر بچے کی صحت اچھی ہے تو اسے سکول ضرور جانا چاہیئے۔
سکول کی ڈائریکٹر ریٹا جانسنز کا کہنا تھا کہ ان کے سکول میں بچوں کی تعداد 200 ہے۔ اور وہ ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ٹیچرز کو ماسک کے ساتھ چہرے کے اوپر لگانے کے لیے شیشے جیسی شیٹ بھی دی ہے۔ ہم نے باقی جگہوں پر بھی پلاسٹک کی شیٹ وغیرہ لگا دی ہیں تاکہ حفاظتی فاصلہ قائم رہے۔ تمام کلاس رومز میں حفظان صحت کی چیزیں رکھ دی گئی ہیں تاکہ بچے صابن سے اپنے ہاتھ دھو سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے سکول کے مرکزی دروازے پر ٹمپریچر چیک کرنے کا بندوبست کر دیا ہے تاکہ کوئی بیمار بچہ یا ٹیچر سکول کے اندر داخل نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ پیر سے سکول پوری طرح کھل جائے گا۔
بیلجئم کا شہر برسلز یورپی یونین اور نیٹو کا ہیڈ کوارٹرز ہے۔ اس ملک میں کرونا وائرس کے ساڑھے 54 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ تقریباً 9 ہزار اموات ہوئی ہیں۔
پاکستان میں اندرونِ ملک فضائی آپریشن آج سے بحال
پاکستان میں 16 مئی سے اندرونِ ملک فلائٹ آپریشن بحال ہو گیا ہے۔ یہ فلائٹ آپریشن 25 مارچ کو کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب معطل کیا گیا تھا۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق قومی ایئر لائن پی آئی اے اور نجی ایئر لائن سیرین ایئر کو اندرونِ ملک پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز کو ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہو گا۔
سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پشاور ایئر پورٹ سے چار اور کوئٹہ ایئرپورٹ سے ہفتے میں آٹھ پروازیں چلیں گی۔
اسلام آباد اور لاہور سے ہفتے میں 32 پروازیں چلیں گی۔ نوٹی فکیشن کے مطابق کراچی سے ہفتے میں 68 پروازیں چلیں گی۔