رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:25 18.5.2020

اوباما ایک نااہل صدر تھے: ڈونلڈ ٹرمپ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے کرونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ سابق صدر اوباما ایک نااہل صدر تھے۔

سابق صدر اوباما نے ہفتے کے روز کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا سے آن لائن خطاب کے دوران کہا تھا کہ کرونا وائرس کے خلاف مہم کی قیادت کرنے والے بہت سے افراد کی مہارت کا مکمل اور حتمی طور پر پردہ چاک ہو گیا ہے اور انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے میں کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

براک اوباما نے خطاب میں کسی شخص کا نام نہیں لیا تھا۔

جب اس پر صدر ٹرمپ سے ردعمل معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سابق صدر اوباما ایک نااہل صدر تھے اور وہ ان کے بارے میں یہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔

17:30 18.5.2020

امریکہ میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ، ہلاکتیں 90 ہزار کے قریب

امریکہ میں کرونا وائرس کے 15 لاکھ کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 90ہزار کے قریب ہلاکتوں کے ساتھ امریکہ وبا کا بڑا مرکز بن چکا ہے۔

ناقدین نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کرونا وائرس کی شروعات کے اہم دنوں میں اس بحران کی شدت کو نظر انداز کر دیا تھا۔

امریکہ کے محکمہ صحت حکام اس الزام کو مسترد کر چکے ہیں کہ حکومت نے اس سلسلے میں عوام کو مایوس کیا ہے۔

ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے سیکریٹری ایلکس آزار نے 'سی این این' کو بتایا کہ امریکہ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا گیا تھا۔ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے ہوتے تو صورت حال اور زیادہ خراب ہو سکتی تھی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں واقعی بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور یہ وائرس ختم ہو کر رہے گا۔

17:34 18.5.2020

کرونا وائرس کی شروعات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی شروعات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ تاہم چین نے کہا ہے کہ ایسا اقدام قبل از وقت ہو گا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ کرونا وائرس بدستور پھیل رہا ہے۔

یورپین یونین کی طرف سے تیارہ کردہ ایک قرارداد متوقع طور پر اس ہفتے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں منظور کر لی جائے گی۔ یہ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کا نگران ادارہ ہے۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بارے میں جامع تحقیقات کی جائیں کہ کرونا وائرس کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کس حد تک مؤثر تھے۔

آسٹریلیا ایسی تحقیقات کے مطالبے میں پیش پیش رہا ہے اور آسٹریلوی وزیر خارجہ میریسے پین نے کہا ہے کہ ان کا ملک غیر جانب دار، آزاد اور جامع تحقیقات کی خواہش رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس مطالبے کی بڑھتی ہوئی حمایت سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

کرونا وائرس کی نشاندہی سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں گزشتہ دسمبر میں ہوئی تھی جس کے بعد یہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔

اس وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 315000 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 47 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

یورپ سمیت متعدد ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں انہوں نے لاک ڈاؤن اور مختلف بندشیں ختم کر دی ہیں۔

17:42 18.5.2020

بھارت: شہروں سے مزدوروں کی دیہات واپسی کا سلسلہ جاری

بھارت میں لاکھوں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اپنی عارضی قیام گاہوں سے نکل کر گھروں کو جانے کے لیے نیشنل ہائی ویز اور دیگر سڑکوں پر موجود ہیں۔ وہ مختلف ذرائع نقل و حمل سے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

بہت سے مزدور سیکڑوں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 25 مارچ کو پہلے لاک ڈاون کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے۔ اس دوران مختلف حادثوں میں متعدد مزدور ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

حکومت نے پہلے ان مزدوروں کے اپنے ابائی علاقوں میں واپس جانے پر پابندی عائد کر دی تھی مگر پھر اجازت دے دی گئی۔ مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئیں جو اب تک حکومت کے مطابق کئی لاکھ مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچا چکی ہیں۔

اسی دوران حکومت نے لاک ڈاون 4.0 کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اقتصادی سرگرمیاں شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اس کا مقصد جہاں ایک طرف معیشت کی گاڑی کو آگے بڑھانا ہے وہیں گھروں کی طرف لوٹ رہے مزدوروں کو روکنا بھی ہے۔ لیکن مزدوروں نے جو رخ اختیار کیا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فی الحال رکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ مزدور میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی واپسی کو ناممکن بتاتے ہیں۔ بلکہ بعض مزدوروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہ اب واپس شہروں میں نہیں جائیں گے۔ انہیں ان لوگوں سے بڑی شکایت ہے جہاں وہ کام کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی انہیں دھتکار دیا گیا اور کہا گیا کہ اب ان کے لیے کام نہیں ہے۔ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ ان کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا کوئی انتظام حکومت یا جن کے لے وہ کام کرتے تھے، کی جانب سے نہیں کیا گیا۔

ان مزدوروں کو مکان مالکان سے بھی بہت شکایت ہے جو ان سے کرایہ مانگ رہے ہیں اور ادا نہ کر پانے کی صورت میں انہیں گھروں سے نکال رہے ہیں۔

ایسے مزدوروں کی بھی تعداد کافی ہے جو اپنا سب کچھ فروخت کرکے اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ واضح انداز میں کہتے ہیں کہ وہ گاؤں میں محنت مزدوری کر لیں گے لیکن اب شہر نہیں آئیں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG