رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:28 19.5.2020

کاروبار تو کھل گئے، وبا سے بچاؤ کے ضابطوں پر عمل کیسے ہوگا؟

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کرونا کے سبب دو ماہ کی بندش اور بدلتے ہوئے حالات نے لوگوں کی نفسیات پر گہرے اثرات چھوڑیں گے۔ اور اس وقت بھی پاکستان اور دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگ کرونا کی حقیقت کے بارے میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جب کہ ​پاکستان میں سپریم کورٹ کے اس حکم کا تاجروں نے خیر مقدم کیا ہے کہ عید سے پہلے کے اس ہفتے میں دکانوں اور بازاروں کو ہفتے اور اتوار کے دن بھی کھلنے دیا جائے اور پورے ملک میں شاپنگ مالز بھی صبح دس بجے سے ایک بجے رات تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ تاجروں کی دوکانیں سیل نہ کی جائیں اور جو کی گئیں ہیں انہیں کھول دیا جائے۔

ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کاروبار کھلنے کے بعد لوگوں کو کس طرح ماسک اور دستانے پہننے اور سماجی فاصلہ رکھنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک عید سے قبل شاپنگ کا تعلق ہے۔ دکان داروں کا موقف ہے کہ انہیں بھی مالز کی طرح رات دیر تک دوکانیں کھولنے کی اجازت ہونی چاہئیے۔ تاکہ خریداری کے لئے آنے والے تقسیم ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پانچ بجے دوکانیں بند کرنے کا حکم ہے جس کے سبب زیادہ سے زیادہ لوگ مقررہ وقت کے اندر اپنی شاپنگ کے لئے آتے ہیں اور اس طرح وہ احتیاطی تدابیر نظر انداز کر دیتے ہیں جو ایک خطرناک بات ہے۔

مزید پڑھیے

02:31 19.5.2020

کس ادارے نے کتنے ملازم فارغ کیے؟

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کیے گئے اور اس احتیاط نے عالمی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا۔ چھوٹے کاروبار ہی نہیں، بڑے ادارے بھی چھانٹیوں پر مجبور ہو رہے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔

صرف امریکہ میں آٹھ ہفتوں کے دوران تین کروڑ 65 لاکھ افراد بیروزگار ہو چکے ہیں جس سے معاشی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شہروں میں سواری فراہم کرنے والے بڑے ادارے اوبر نے چند ہفتے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ 3700 ملازمین کو فارغ کر رہا ہے۔ پیر کو اوبر کے سی ای او دارا خسروشاہی نے اعلان کیا کہ وہ مزید 3 ہزار ملازمین کم کر رہے ہیں جب کہ 45 دفاتر بند کر دیے جائیں گے۔ اس طرح اوبر کے 25 فیصد ملازمین روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔

اوبر جیسی کمپنی لفٹ نے 29 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ وہ 982 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے جب کہ مزید 288 کو بلا تنخواہ رخصت پر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ اس کی ورک فورس کا چھٹا حصہ یعنی 17 فیصد ہے۔ اخراجات کم کرنے کے دوسرے اقدامات میں اعلیٰ انتظامی افسروں کی تنخواہ میں کٹوتی بھی شامل ہے۔

کار رینٹل کمپنی ہرٹز نے 20 اپریل کو بتایا تھا کہ وہ اپنے 10 ہزار ملازمین کو رخصت کرنے والی ہے۔ اس کے ملازمین کی کل تعداد 38 ہزار ہے۔

مزید پڑھیے

02:32 19.5.2020

شمالی امریکہ میں کرونا وائرس سے ایک لاکھ اموات

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات میں پیر کو کمی دیکھنے کو ملی لیکن شمالی امریکہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ہو گئی۔ جنوبی امریکہ کے ملکوں میں بھی کیسز اور اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پرو جیسا چھوٹا ملک مریضوں کی تعداد میں چین سے آگے نکل گیا ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 213 ملکوں اور خودمختار خطوں میں پیر تک کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 48 لاکھ 70 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

24 گھنٹوں کے دوران برازیل میں 252، برطانیہ میں 160، پرو میں 141، میکسیکو میں 132، بھارت میں 131، فرانس میں بھی 131، اٹلی میں 99 اور روس میں 91 مریض دم توڑ گئے۔

امریکہ میں پیر کی شام تک 700 اموات کا علم ہوا تھا جس کے بعد مجموعی تعداد 91 ہزار سے زیادہ ہو گئی تھی۔ شمالی امریکہ میں کینیڈا اور میکسیکو دونوں میں اموات کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہے۔

امریکہ کے 18 ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ نیویارک 28 ہزار اور نیوجرسی 10 ہزار اموات کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ نیویارک میں کیسز کی تعداد ساڑھے تین لاکھ اور نیوجرسی میں ڈیڑھ لاکھ ہوچکی ہے۔

برازیل میں 16 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بڑے شہروں کے اسپتال مزید مریضوں کو نہیں سنبھال پائیں گے۔ وہاں کیسز کی تعداد 2 لاکھ 45 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جنوبی امریکہ کے دوسرے ملکوں میں پرو میں 94 ہزار، چلی میں 46 ہزار اور ایکویڈور میں 33 ہزار کیسز کا علم ہو چکا ہے۔

مجموعی طور پر امریکہ میں مریضوں کی تعداد 15 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر روس میں 2 لاکھ 90 ہزار کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 2 لاکھ سے زیادہ کیسز والے دوسرے ملکوں میں اسپین، برطانیہ، برازیل اور اٹلی شامل ہیں۔

دنیا بھر میں لگ بھگ 19 لاکھ افراد کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان میں امریکہ کے ساڑھے تین لاکھ، اسپین کے ایک لاکھ 96 ہزار، جرمنی کے ایک لاکھ 54 ہزار، اٹلی کے ایک لاکھ 27 ہزار اور ترکی کے ایک لاکھ 11 ہزار شہری شامل ہیں۔

02:36 19.5.2020

کیا امریکی چہرے کے ماسک کو اپنا معمول بنائیں گے؟

اگر کرونا وائرس کی موجودہ صورت حال میں آپ کو محفوظ انداز میں معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹنا ہے تو عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننے کو ایک معمول بنانا ہو گا۔

ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق کوویڈ 19 کی دوا کی عدم موجودگی میں اگر زیادہ تر لوگ چہرے کا ماسک پہنیں تو کرونا وائرس کے کیسز میں 80 فیصد کمی واقع ہوتی ہیں۔

یوسی برکلے کے بین الاقوامی کمپیوٹر سائنس انسٹی ٹیوٹ اور ہانگ کانگ کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کی شراکت سے کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سماجی فاصلوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا چہرے پر ماسک پہننا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔

تحقیقی ٹیم کے رہنما ڈاکٹر ڈی کائی کہتے ہیں کہ اگر 80 فیصد عوام ماسک پہن لیں تو کوویڈ 19 کے کیسز میں بارہ گنا کمی ہوتی ہے۔

ماہرین اس حوالے سے جاپان اور امریکہ میں متضاد صورت حال کا موازنہ کرتے ہیں۔ جاپان میں لاک ڈاؤن کی کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن وہاں تقریباً تمام لوگ عوامی جگہوں پر چہرے پر ماسک پہنتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG