- By سہیل انجم
بھارت میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز
بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کو دو ماہ ہونے والے ہیں۔ لاک ڈاؤن 4.0 کا نفاذ پیر سے ہوا جس میں اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بہت سی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔
اس دوران بھارت میں کل کیسز کی تعداد ایک لاکھ ایک ہزار 139 جب کہ اموات کی تعداد 3163 تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4970 نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 134 افراد وبا سے ہلاک ہوئے۔
وزارت صحت کے مطابق 39000 سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے اوسط کیسز 7.1 فی ایک لاکھ افراد ہیں جب کہ عالمی اوسط 60 کیسز فی ایک لاکھ افراد ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں گزشتہ ایک ہفتے میں 28 فی صد کیسز کا اضافہ ہوا جب کہ اس دوران اس کے پڑوسی ملک پاکستان میں 19 فی صد کا اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں چوتھے مرحلے کے لاک ڈاؤن میں بہت سی پابندیاں اٹھا لینے سے کیسز میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت ملنے کے باوجود سڑکوں سے گاڑیاں غائب
افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد 178 ہو گئی
افغانستان کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 581 نئے کیسز تصدیق کی ہے۔
یہ فروری کے آخر ہفتے سے وبا کے آغاز کے بعد ایک دن میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ کیسز کی تعداد ہے۔
ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 7653 ہو گئی ہے۔
افغان وزارت صحت نے بتایا ہے کہ وائرس سے مزید پانچ افراد کی موت ہوئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 178 ہو گئی ہے۔
ہائیڈروکسی کلوروکوئن استعمال کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا انکشاف
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے انسداد ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئن استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں ڈیڑھ ہفتے سے دوا استعمال کر رہا ہوں اور آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ اس میں بھلا کیا نقصان ہے؟
انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کی ایک گولی زنک کے ساتھ لیتے ہیں اور ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مسلسل منفی آرہا ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کرونا وائرس سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ ابھی تک کسی تحقیق اور کلینکل تجربات میں اس کا کرونا وائرس کے خلاف موثر ہونا ثابت نہیں ہوا۔ اس کے برعکس یہ دوا بعض مریضوں میں موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹرین نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کو صرف اسپتالوں میں استعمال کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے دھڑکن متاثر ہوسکتی ہے۔