عرب امارات کا پہلا طیارہ اسرائیل پہنچ گیا
متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایئر لائن 'اتحاد ایئر ویز' کی پرواز فلسطینوں کے لیے کرونا وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی سامان لے کر اسرائیل پہنچ گئی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ اماراتی طیارہ اسرائیل کی سر زمین پر اُترا ہے۔
اتحاد ایئر ویز کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے اُن کی یہ پہلی براہِ راست پرواز تھی جو منگل کو دارالحکومت ابوظہبی سے تل ابیب کے بین گورین ایئرپورٹ کے لیے روانہ کی گئی تھی۔
اماراتی سرکاری فضائی کمپنی نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ اسرائیل روانہ کی جانے والی خصوصی پرواز میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔ طیارے میں صرف فلسطین کے عوام کے لیے طبی ساز و سامان روانہ کیا گیا ہے جس میں میڈیکل آلات اور وینٹی لیٹرز بھی شامل ہیں۔"
اے پی کے مطابق اسرائیل کے ایئرپورٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ منگل کی شب بین گورین ایئرپورٹ پر کارگو تیارے نے لینڈ کیا ہے۔
غزہ یا مغربی کنارے میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں ہے اور بیرون ملکِ سے فلسطین کے لیے آنے والا ساز و سامان اسرائیل سے ہو کر آتا ہے۔
کرونا وائرس: عالمی سیاسی محاذ آرائی کہاں لے جائے گی؟
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسن کی تیاری پر ریسرچ جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی عارضی بنیاد پر بعض موجودہ دواؤں کا بھی تجربہ کیا گیا ہے اور وائرس میں مبتلا مریضوں پر اس کی آزمائش کی گئی ہے۔ تاہم، ابھی تک کامیابی کی کوئی علامت نظر نہیں آئی۔
ان میں ایک دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئین بھی شامل ہے، جس کے استعمال پر بھی متضاد آرا آتی رہی ہیں۔ اور اس نے متنازعہ حثیت اختیار کر لی ہے۔ اس کے بارے میں قیاس آرائی کی جاتی رہی تھی کہ بنیادی طور پر ملیریا سے بچاؤ کی یہ دوا کرونا انفکیشن کو روکنے اور مریضوں کی صحت یابی میں مددگار ہوسکتی ہے
تاہم، طبی ماہرین کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے بلکہ اس کے برعکس ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ کرونا کے مریضوں پر اس کا استعمال دل کے عارضے کا سبب بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس کے بارے میں مختلف زاویہ نگاہ رکھتے ہیں۔ اور ان کا اب بھی اصرار ہے کہ اس دوا کے استعمال سے متعلق ان کی سوچ درست ہے۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کے انفیکشن کے لئے صدر ٹرمپ کا بھی ٹیسٹ کیا گیا تھا جو بہرحال منفی نکلا تھا۔ لیکن، ان کا کہنا ہے کہ وہ خود گزشتہ دو ہفتوں سے اس دوائی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے دلیل دی ہے کہ اس کا استعمال ایسے مریضوں کے لئے کیا گیا جن کی حالت غیر تھی اور وہ بہت بوڑھے اور پہلے ہی سے قریب المرگ تھے۔
زندگی معمول پر آرہی ہے لیکن معمول کے معنی بدل رہے ہیں
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے اور کاروبار زندگی کو رفتہ رفتہ معمول پر لایا جارہا ہے۔ لیکن، لوگوں کو اندازہ ہورہا ہے کہ معمول کے معنی بدل رہے ہیں۔
تعلیمی ادارے، دفاتر، عوامی سفر کے ذرائع اور ریستوران لاک ڈاؤن کے بعد کی زندگی میں اگلے محاذ پر ہیں۔ سب کچھ کھلتا جا رہا ہے۔ لیکن، سب کچھ اتنا مختلف کیوں ہے؟ یہ نہیں کھل رہا۔
کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس میں اگر سال نہیں تو غالباً مہینے ضرور لگیں گے۔ ان حالات میں کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی کی صورت کیسی ہوگی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اہم شعبے سماجی فاصلے کو کیسے ممکن بنائیں گے اور وبا کی نئی لہر کو کیسے روکا جائے گا۔
مختلف ملکوں میں معمولات کی طرف واپسی کے معنی مختلف ہیں۔ بھارت میں بھوک سے بے حال مزدوروں کے لیے اس کا مطلب ٹرین کا پہیہ چلنا ہے اور اب وہ اپنے دیہات واپس جاکر کھیتی باڑی کرسکتے ہیں، کیونکہ شہروں میں ان کے روزگار ختم ہوگئے ہیں۔
سمندر میں پھنسے ہوئے تفریحی جہاز کے ملازم کروشیا کے سیکڑوں کارکنوں کے لیے اس کا مطلب مہینوں بعد ساحل پر پہنچنا ہے۔ کیلی فورنیا کے دولت مندوں کے لیے اس کا مطلب بیورلے ہلز میں مہنگی بوتیک کا دوبارہ کھلنا ہے جہاں وہ خریداری کے لیے جاسکتے ہیں۔
برازیل میں ایک دن میں 1179 مریض چل بسے
لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس سے بدترین متاثر ملک برازیل میں منگل کو 1179 افراد ہلاک ہوئے، جو ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کا نیا ریکارڈ ہے۔ ان میں سے 324 اموات صرف ایک صوبے ساؤپولو میں ہوئی ہیں۔
برازیل چوتھا ملک ہے جہاں ایک دن میں ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ باقی تین ممالک امریکہ، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہاں بھی ایک دن میں ایک ہزار اموات نہیں ہوئی تھیں۔
21 کروڑ آبادی والے ملک برازیل میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق 18 مارچ کو ہوئی تھی اور ابتدا میں وبا کے پھیلنے کی رفتار سست تھی۔ لیکن اس ماہ کیسز اور اموات میں تیزی آئی۔ اب مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ امریکہ اور روس کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ یہاں 2 لاکھ 75 ہزار کیسز اور 18 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔
ساؤپولو کے مئیر نے چند دن پہلے خبردار کیا تھا کہ ان کا سوا کروڑ آبادی کے شہر کے اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں اور شہریوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔
برازیل کے صدر جائر بولسونارو کرونا وائرس کے خطرے کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معمولی سا فلو ہے۔ لوگوں کا قرنطینہ میں رہنے اور لاک ڈاؤن کرنے سے معیشت پر زیادہ برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بحران شروع ہونے کے بعد ایک وزیر صحت کو اختلافی رائے رکھنے پر صدر نے برطرف کردیا تھا جبکہ دوسرے نے خود مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔