نماز عید کے اجتماعات میں کہیں احتیاطی تدابیر پر عمل، کہیں نظر انداز
پاکستان میں کرونا وائرس کے سبب عید الفطر سادگی کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
کرونا وائرس کے سبب نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں عید سے کچھ روز قبل نرمی کی گئی جب کہ حکومت نے سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز عید کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ملک بھر میں نماز عید کے لیے اجتماعات منعقد ہوئے۔ جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تاہم اس موقع پر بعض مقامات پر احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا گیا جب کہ بعض اجتماعات میں حکومتی ہدایات کے باوجود سماجی دوری اختیار نہیں کی گئی۔
عید کے پیغامات میں بھی کرونا وائرس کا ذکر
عید پر پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم نے خصوصی پیغامات جاری کیے تاہم ان کے پیغامات میں کرونا وائرس کی صورت حال کا ذکر موجود تھا۔
پاکستان کے صدر عارف علوی نے عید الفطر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی عید شہدا پی آئی اے، کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال میں روزی کمانے کی کوشش کرنے والے سب غریبوں، ڈاکٹر، نرسز، کرونا کے مریضوں، ہندوستانی مظالم برداشت کرنے والے کشمیریوں، ہندوستان میں اسلام فوبیا سے متاثرہ مسلمانوں، فلسطینیوں اور مسلمان مہاجرین کے نام وقف کرتے ہیں۔
عید کے اجتماعات کے حوالے سے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم میں سے ہر کوئی وبا کے حوالے سے متعارف کردہ خصوصی احتیاطی تدابیر کا بھرپور خیال اور لحاظ رکھے۔
کرونا وائرس کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ مرض ہمارے درمیان موجود ہے چنانچہ ادائیگئ نمازِ عید سمیت پوری چھٹیوں کے دوران سماجی فاصلوں کا بطور خاص اہتمام کیا جائے۔
علاوہ ازیں ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہنے والوں کا ذکر کیا کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران ڈٹے رہنے پر اہل کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں۔
پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ، ہلاکتیں 1133 ہو گئیں
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 32 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 1133 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2164 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 54601 ہو گئی ہے۔
سرکاری ویب سائٹ 'کوئڈ' پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اب تک 4 لاکھ 73 ہزار افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 12915 ٹیسٹ کیے گئے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 17198 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ وائرس سے سب سے زیادہ 21645 افراد سندھ میں متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ پنجاب میں 19557، خیبر پختونخوا میں 7685، بلوچستان میں 3306، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1592، گلگت بلتستان میں 619 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 197 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
برطانیہ یکم جون سے پرائمری اسکول کھولنے کے لیے تیار
برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر طے شدہ پروگرام کے تحت یکم جون سے پرائمری اسکول کھول دیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق وزیر برائے ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس کا اتوار کو کہنا تھا کہ اسکول کھولنے سے متعلق اساتذہ اور مزدوروں کی کچھ یونینز کی طرف سے مخالفت سامنے آرہی ہے۔ تاہم برطانوی حکومت اسکول یکم جون سے کھول دے گی۔