- By شمیم شاہد
پشاور میں صحافی کی کرونا وائرس سے ہلاکت
پشاور کے سینئر صحافی فخرالدین سید لگ بھگ دس روز تک کرونا وائرس سے لڑنے کے بعد جمعرات کی صبح انتقال کر گئے ہیں۔ وہ نجی ٹیلی ویژن '92 نیوز' سے وابستہ تھے۔
فخرالدین سید کو دس دن قبل سانس لینے میں دشواری کی شکایت پر پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل کیا گیا تھا جہاں کرونا ٹیسٹ کیے جانے پر ان میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
عید الفطر سے ایک دن قبل فخرالدین کی حالت بگڑنے پر اُنہیں اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔ اس دوران ڈاکٹروں نے پلازما کے ذریعے ان کی جان بچانے کی کوشش کی تھی۔
فخرالدین سید کرونا وائرس سے خیبر پختونخوا میں ہلاک ہونے والے پہلے صحافی ہیں۔ پشاور کے تقریباً ڈیڑھ درجن صحافی اور ذرائع ابلاغ کے دیگر کارکن کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر صحت یاب ہوچکے ہیں۔ تاہم ایک فوٹوگرافر عامر علی شاہ صحت یاب ہونے کے بعد دوسری بار متاثر ہوئے ہیں۔
پشاور کے علاوہ صوابی، ایبٹ آباد، بنوں، سوات اور دیر سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس: امریکی افواج کا افغانستان سے قبل از وقت انخلا پر غور
امریکی افواج نے شیڈول سے قبل افغانستان سے انخلا پر غور شروع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی محکمۂ دفاع کو ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ فوجیوں کی واپسی کے لیے اقدامات کرے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی فوج کے حکام نے بدھ کو بتایا ہے کہ طالبان سے ہونے والے معاہدے میں طے کردہ وقت سے قبل افغانستان سے فوج کے انخلا پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع کے سینئر افسر کے مطابق کرونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر کمانڈرز فوجیوں کے انخلا کا عمل تیز کر رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ قبل از وقت فوجیوں کے انخلا کا عمل کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے باعث کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے لیے ان کی صحت اور عمر کو ترجیح دی جائے گی۔
قندھار میں ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹری میں تیکنیکی خرابی
افغانستان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 580 نئے کیسز کے ساتھ ملک میں مریضوں کی کل تعداد 13036 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق ان میں قندھار کی کرونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹری میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس شہر کے اعدادو شمار شامل نہیں ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 235 ہو گئی ہے۔
سندھ میں کرونا وائرس سے بچے تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مئی کے مہینے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں یکم مئی کو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 18 ہزار 114 تھی لیکن 28 مئی کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 43 ہزار نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 61 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
کیسز کی سب سے زیادہ تعداد یعنی 24 ہزار سے زائد صوبہ سندھ میں ہے جب کہ اموات کی تعداد اب تک خیبر پختونخوا میں زیادہ رہی ہے جہاں جمعرات کی صبح تک وائرس سے 425 ہو چکی ہیں۔
ادھر محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ایک اور خطرناک رحجان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بچوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اعداو شمار کے مطابق 2 مئی کو کرونا وائرس سے متاثرہ 10 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 253 تھی لیکن محض 20 روز میں اس تعداد میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ کر 788 ہوگئی۔