لاک ڈاؤن پر نظرثانی کے لیے اجلاس آج ہو گا
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا اجلاس آج ہو گا جس میں کرونا وائرس کے سبب عائد کردہ لاک ڈاؤن پر نظر ثانی کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران کرونا وائرس کے نئے کیسز اور ہلاکتوں میں اضافے پر غور و غوض ہو گا اور لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ صرف مئی کے مہینے میں پاکستان میں کرونا وائرس کے پچاس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں نرمی: ملکہ برطانیہ کی 'شاہی بگھی' سے 'گھڑ سواری' پر واپسی
ملکۂ برطانیہ الزبتھ سفر کے لیے شاہی بگھی یا جدید کاروں کا استعمال کرتی ہیں لیکن وہ ایک مرتبہ پھر گھڑ سواری کرنے لگی ہیں۔ اس تبدیلی کا سبب کرونا وائرس کی وبا بتایا جاتا ہے۔
اتوار کو انہوں نے ونڈسر ہوم پارک میں گھڑ سواری کی جس کی بکھنگم پیلس نے باقاعدہ تصویر بھی جاری کی ہے۔
گھڑ سواری کے دوران ملکۂ برطانیہ نے ہیلمٹ کے بجائے رنگین اسکارف اور اونی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 94 سالہ ملکہ وبائی مرض کے سبب پچھلے 10 ہفتوں سے اپنے 98 سالہ شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ مغربی لندن میں واقع ونڈسرکیسل میں مقیم ہیں۔
اتوار کو وہ پہلی مرتبہ ایک منفرد انداز میں عوام کے سامنے آئیں۔
پاکستان: مئی میں 50 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور صرف مئی کا مہینہ اس حوالے سے خطرناک ترین ثابت ہوا جس میں 54 ہزار 346 کیسز سامنے آئے ہیں۔
وزارتِ صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد 28 ہزار 245 ہے۔ پنجاب میں 26 ہزار 240، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں چار ہزار 393، گلگت بلتستان میں 711، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 255، اسلام آباد میں دو ہزار 589 کیسز موجود ہیں۔
ہلاکتوں میں پنجاب سب سے آگے ہے جہاں اب تک 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، بلوچستان میں 47، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس بارے میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو سخت لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے۔
ان کے بقول ملک میں جہاں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کی وجہ سے ہونے والی اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ کرونا کے مریضوں کے حوالے سے احتیاط ہی واحد علاج ہے لیکن پاکستان میں جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے اس سے کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف عام مریض نہیں بلکہ طبی عملہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں چند ایک کے علاوہ سب شعبے کھولنے کا اعلان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔ عوام جتنی بے احتیاطی کریں گے اتنانقصان ہوگا۔ غربت اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔
کرونا کی صورت حال پر قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث لاگو کیا گیا لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وبا مزید نہیں پھیلے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیسے والے لوگ ملک میں شور مچا رہے تھے کہ لاک ڈاؤن کیا جائے۔ کراچی میں 30 سے 35 فی صد لوگ کچی آبادی میں رہتے ہیں ان پر لاک ڈاون کا کیا اثر ہونا تھا۔ ڈھائی کروڑ افراد ڈیلی ویجرز اور ہفتہ وار کمانے والے تھے۔
وزیر اعظم کے مطابق ملک کےمعاشی حالات پہلے ہی اچھے نہیں تھے، وائرس کی وجہ سے مزید متاثر ہوئے۔ پاکستان کی ٹیکس کلیکشن 30 فی صد کم ہوئی جب کہ برآمدات بھی گر گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر لاک ڈاؤن بڑھایا تو غربت بڑھے گی۔ جزوی لاک ڈاؤن کا مقصد وائرس کا پھیلاؤ کم کرنا تھا۔
عمران خان کے مطابق لاک ڈاؤن احتیاط ہے۔ وائرس کا علاج نہیں ہے۔ رواں سال کرونا کے ساتھ رہنا ہے۔ جب تک ویکسین نہیں آتی تب تک کرونا نہیں جا رہا۔
دوسری جانب مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاک ڈاؤن صرف ہفتے اور اتوار کو ہوگا جب کہ بازار اور شاپنگ مال اب جمعے کو بھی کھلیں گے۔