رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:28 6.6.2020

کرونا وائرس: فضائی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر چھانٹی کا خطرہ برقرار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کی عالمی وبا اور اس پر کنڑول کے لئے بندشوں نے ساری دنیا میں تمام اقتصادی سرگرمیوں کو بدستور مفلوج کر رکھا ہے۔ معیشت کے تمام شعبے اس ہولناک وبا سے متاثر ہوئے ہیں اور کاروبار تلپٹ ہوگئے ہیں، جن میں ائیرلائن کی صنعت بھی شامل ہے۔

ہوائی اڈے ویران ہوگئے، پروازیں بند ہوگئیں اور وہ تمام چہل پہل اور گہما گہمی، جو ان سے عبارت تھی، یکایک تھم گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فضائی کمپنیوں کو مالی اعتبار سے شدید نقصان اٹھانا پڑا اور ان میں سے بعض کے لئے تو دیوالیہ پن تک کی نوبت آن پہنچی ہے۔ دوسری جانب ائیرلائنز کمپنیوں کے عملے کے روزگار کے لالے پڑگئے۔

اس صورتحال کے ردعمل میں بعض امریکی فضائی کمپنیوں کو بھاری امدادی پیکجوں کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کارکنوں کی تعداد میں کٹوتی پر مجبور ہیں۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کرونا کی عالمی گیر وبا کے بعد بہت سی امریکی ائیرلائن کمپنیاں پہلے کے مقابلے میں اب بہت زیادہ سکڑ جائیں گی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امیریکن اور یونائیٹیڈ ائیرلائنز کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے انتظامی عملے اور امدادی اسٹاف کی تعداد میں تیس فیصد کی کٹوتی کردیں گی۔ اسی طرح ایک اور معروف ائیرلائن ڈیلٹا کا کہنا ہے کہ وہ موسم خزاں کے دوران قبل ازوقت ریٹائرمنٹ اور اس صورت میں اضافی رقوم کی پیشکشوں کی مدت کو بڑھادے گی۔

مواصلات کے ایک ماہر اور بروکینگز انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو کلف وینسٹن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ اقدامات حیران کن نہیں ہیں اس لئے کہ ائیرلائنز کی کاروباری سرگرمیوں میں جو ڈرامائی گراوٹ آئی ہے اس کے پیش نظر انھیں اب اتنی بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار نہیں ہے۔

سنگاپور انسٹیٹوٹ فار ٹیکنالوجی کے پروفیسر ولادی میر بلوٹ کیچ کہتے ہیں کہ تیس فیصد بہت بڑی کٹوتی ہے تاہم انھوں نے توجہ دلائی کہ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مسافروں کی تعداد کے مقابلے میں افرادی قوت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس مدت میں ائیرلائن کی صنعت نے اپنی افرادی قوت تقریبا ًپچیس فیصد بڑھادی۔ مارچ دو ہزار پندرہ میں یہ تعداد چھ لاکھ تھی جو مارچ دو ہزار بیس میں بڑھ کر ساڑھے سات لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ مسافروں کی تعداد میں پندرہ فیصد سے تھوڑا ہی زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا

11:01 6.6.2020

پنجاب میں کرونا وائرس کے بڑھتے مریض کیا اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس سے اب تک 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 33 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی صورتِ حال میں پنجاب کے اسپتال کرونا وائرس سے نمٹ سکتے ہیں؟ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کیے جانے کے بعد کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔

پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور کو کرونا وائرس کا گڑھ سمجھا جا رہا ہے جہاں اس وائرس سے 14 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب کے بڑے ٹیچنگ اسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی ہے۔ صوبے کے آٹھ بڑے اسپتالوں کے 'ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس' میں جگہ ختم ہو گئی ہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث صوبے بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

صوبہ پنجاب کے 'اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ' کے مطابق پنجاب کے آٹھ بڑے اسپتالوں کے 'آئسولیشن وارڈز' میں بھی مزید مریضوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔

تین جون تک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے سروسز اسپتال، جناح اسپتال اور جنرل اسپتال میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص 'ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس' میں جگہ ختم ہو گئی ہے۔

ڈیپارٹمنٹ کے مطابق راولپنڈی کے دو بڑے اسپتال بے نظیر بھٹو اسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بھی تشویش ناک مریض داخل نہیں کر سکتے۔
پنجاب میں کرونا وائرس کے لیے آٹھ فیلڈ اسپتال بھی قائم کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیے

16:21 6.6.2020

17:16 6.6.2020

وفاق نے سندھ حکومت کی کوششوں کو سبوتاژ کیا: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سندھ حکومت کی کوششوں کو وفاقی حکومت نے سبوتاژ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی کوشش تھی کہ وائرس کو بڑے شہروں میں پھیلنے سے روکا جائے، لیکن وفاقی حکومت نے ہماری کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے خود کام نہیں کرنا تھا تو ہمیں تو کام کرنے دیتے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اب ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ کرونا وائرس پھیل چکا ہے اور اب ہمیں اس کے ساتھ جینا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ بے شک ہماری بات نہ سنیں لیکن جو فرنٹ لائن پر بیماری کے مقاملہ کر رہے ہیں اُن ڈاکٹرز کی بات تو سنیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری اموات کی شرح بھارت اور چین سے زیادہ ہے، لہذٰا کسی کو اس بات کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG