پاکستان میں عالمی وبا کی پیک اگست کے اوائل میں متوقع، کمپیوٹر ماڈلز
ایک ایسے موقع پر جب کہ امریکہ، برازیل، بھارت اور روس میں کرونا وائرس کے شدت برقرار ہے اور یورپ میں کمی دیکھی جا رہی ہے، عالمی وبا پر نظر رکھنے والے کئی تھینک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور اداروں نے انفکشنز سے متعلق کمپیوٹر ماڈلز ترتیب دے رکھے ہیں۔
اگرچہ یہ ماڈلز وبا کی موجودہ رفتار کے پیش نظر مستقبل کا تجزیہ پیش کرتے ہیں، لیکن ان کا اہم مقصد وائرس پر کنڑول کے لیے آئندہ پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔
ان ماڈلز میں ہر ملک کے صحت کے نظام کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ کسی ملک میں 10 ہزار وینٹی لیٹر ہوں اور ایک وقت میں 20 ہزار مریضوں کو ان کی ضرورت پڑ جائے تو یہ حساب لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے زندہ بچ سکیں گے۔
امپریل کالج لندن کے مرتب کردہ کمپیوٹر ماڈل میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں وبا کی پیک 9 اگست کو آئے گی۔ یہ تقریباً وہی تاریخ ہے جس کا عمران خان نے ایک خطاب میں ذکر بھی کیا ہے کہ جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں بحران کا عروج ہو گا۔
ماڈل کے مطابق وبا کے عروج پر پاکستان میں 5 لاکھ مریضوں کو اسپتال میں داخلے کی ضرورت ہو گی۔ جن میں سے 40 ہزار کو انتہائی نگہداشت درکار ہو گی۔
ماڈل کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں میں تمام بستروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے کم ہے۔ تمام اسپتالوں کے آئی سی یوز میں مجموعی طور پر تین ہزار سے کچھ کم مریضوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔
ماڈل کے مطابق 9 اگست کو وبا کی پیک ہو گی اور اس روز 78 ہزار تک اموات ہو سکتی ہیں۔
اس سے ملتے جلتے ماڈلز کی پیش گوئیاں اس سے کافی مختلف ہیں۔ پاکستان کے اب تک کے سرکاری اعداد و شمار اس سے کہیں کم ہیں۔
تاہم کمپیوٹر ماڈلز کو کئی عوامل متاثر کرتے ہیں، مثلاً اگر لوگ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور اسپتالوں کو ادویات اور طبی سامان ضرورت کے مطابق دستیاب ہو، تو یہ تعداد نمایاں طور پر گھٹ سکتی ہے۔
پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے قریب
پاکستان میں مسلسل تیسرے روز چھ ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
وبا سے متعلق اعداد و شمار کی سرکاری ویب سائٹ 'کوئڈ' کے مطابق پاکستان میں ہفتے کے روز 6825 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ اس سے ایک دن قبل جمعے کو 6472 اور جمعرات کو 6397 کیسز سامنے آئے تھے۔
وائرس سے متاثرہ سب سے زیادہ افراد کی تعداد پنجاب میں 53ہزار کے قریب ہے جب کہ سندھ میں 51 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
حکام نے خیبر پختونخوا میں 17ہزار، بلوچستان میں آٹھ ہزار، اسلام آباد مین آٹھ ہزار کے قریب، گلگت بلتستان میں 11 سو جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 604 کیسز کی تصدیق کی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ وبا سے متاثر ہونے والے 51 ہزار 700 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے صحت یاب ہونے کی شرح 37.2 فی صد ہے۔
کرونا وائرس کی ویکسین کی چوہوں پر آزمائش
ایک امریکی کمپنی ماڈرنا نے کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کی ہے، جس کی آزمائش چوہوں پر کی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس کے کامیاب نتائج کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس ویکسین سے انسانی جسم میں اتنی قوت مدافعت پیدا ہو جائے گی کہ اس کے بعد کرونا وائرس کا انسانی جسم کے اندر زور کمزور پڑ جائے گا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، اس ویکسین کے ایک ڈوز سے کرونا وائرس کے خلاف بنیادی مدافعت پیدا ہو سکے گی۔ جمعہ کو اس کمپنی اور یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیس ڈیزیز (NIAID) نے یہ ڈیٹا جاری کیا ہے۔ اس میں کچھ چیزوں کی ضمانت دی گئی ہے۔ تاہم، اس نےتمام سوالات کے جواب نہیں دیے۔
میو کلینک میں متعدی امراض اور ویکسین کے محقق ڈاکٹر گریگوری پولینڈ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سے صرف ابتدائی معلومات حاصل ہوئی ہیں اور ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جن پر تجربات کیے گیے، ان چوہوں کی تعداد بھی کم ہے۔
اس تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ ایک معتبر سائنسی رسالے میں پیش کیا ہے۔
'لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے تاجروں کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نظر نہیں آتا'
ایک جانب جہاں وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کے متوازن ہونے پر دلائل دیے ہیں تو وہیں متعدد معاشی ماہرین اور تاجر اسے اعداد و شمار کا روایتی گورکھ دھندا قرار دے رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کار اور کالم نگار ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ حکومت موجودہ مالی سال میں تو بجٹ وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن آئندہ مالی سال کے لیے 4900 ارب یعنی موجودہ حاصل شدہ بجٹ سے بھی 25فی صد زیادہ رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ اس وقت کرونا کی وجہ سے ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ تقریباََ رکا ہوا ہے۔
معاشی تجزیہ کار اور وزیرِ اعظم کی معاشی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ بجٹ کے مثبت نکات میں سے سب اہم بات یہ ہے کہ سماجی تحفظ کے لیے حکومت نے بہرحال 230 ارب روپے کی بڑی رقم مختص کی ہے جو کہ خوش آئند ہے جب کہ صحت کی مد میں کرونا وائرس کے پیش نظر 70 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
نامور صنعت کار اور تاجر رہنما سراج قاسم تیلی کا کہنا ہے کہ تاجر بالخصوص چھوٹے تاجر جو کرونا وائرس کے سبب کیے جانے والے لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔
ان کے بقول لگتا ہے کہ کرونا وائرس یوں ہی موجود رہا تو حکومت کو تمام اہداف پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی کیوں کہ موجودہ حالات میں یہ اہداف پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔
صدر اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن محمود حامد کے مطابق کرونا کی وجہ سے تباہ حال کاٹیج انڈسٹری کو بجٹ میں مکمل نظر انداز کر کے حکومت نے تاجر دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔