کرونا کے کیسز میں کمی کے بعد یورپ میں پابندیاں مزید نرم
یورپ میں کرونا وائرس کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں اور لاک ڈاؤن سے متعلق احکامات بتدریج واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے۔
کئی یورپی ملکوں نے پیر سے یورپی شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ یورپی ممالک کے درمیان شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت کا سلسلہ کسی حد تک بحال ہو سکے گا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی پابندیوں کے خاتمے کا مقصد سیر و سیاحت کی صنعت کو سہارا دینا ہے جس کا یورپی یونین کی معیشت میں تقریباً 10 فی صد حصہ ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ریستورانوں کو ڈائن اِن کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد گاہک ریستورانوں میں بیٹھ کر کھانا کھا سکیں گے۔ فرانس کی حکومت نے ملک کے باقی علاقوں میں ریستورانوں کو اپنی حدود میں کھانا سرو کرنے کی پہلے ہی اجازت دے دی تھی لیکن پیرس میں ڈائن ان پر پابندی تھی۔
برطانیہ میں عام دکانیں پیر سے دوبارہ کھل رہی ہیں جب کہ عبادت گاہوں کو بھی انفرادی عبادات کے لیے اپنے دروازے کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ملک میں ڈرائیو ان سنیماز اور چڑیا گھر بھی پیر سے کھل رہے ہیں۔
یونان نے تین ماہ کی بندش کے بعد اپنے تمام عجائب گھر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یونان کی حکومت نے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی کا ہوائی اڈہ بھی یورپ سے آنے والی پروازوں کے لیے کھول دیا ہے۔
پنجاب حکومت کا لاہور کے متعدد علاقے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے لاہور میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی تعداد سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ بند کیے جانے والے علاقوں میں شاہدرہ، شاد باغ، ہربنس پورہ، مزنگ، گلبرگ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن کی کچھ سوسائٹیز اور اندرونِ لاہور کے کچھ علاقے شامل ہیں۔
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ تمام علاقوں کو رواں ہفتے منگل کی رات بارہ بجے بند کر دیا جائے گا جو آئندہ پندرہ دنوں کے لیے بند رہیں گے۔
وزیرِ صحت پنجاب نے کہا کہ پابندی کے دوران ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز، دودھ دہی کی دکانیں اور تندور کھلے رہیں گے۔
ناروے: کرونا کے مریضوں کی نشان دہی کرنے والی موبائل ایپلی کیشن بند کرنے کا اعلان
ناروے نے کرونا وائرس کے مریضوں کی ٹریکنگ اور نشان دہی کے لیے لانچ کی گئی موبائل ایپلی کیشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ناروے میں صحتِ عامہ کے ادارے 'این آئی پی ایچ' نے کہا ہے کہ وہ کووڈ 19 کے مریضوں کی ٹریکنگ کے لیے بنائی گئی ایپلی کیشن بند کردیں گے اور اس پر موجود سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کیا جائے گا۔
یہ ایپلی کیشن نارویجین حکام کی جانب سے کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی جس پر ناروے کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کی جانب سے خاصی تنقید کی جا رہی تھی۔
ناروے میں شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے نے جمعے کو کہا تھا کہ کرونا کے کیسز اور وائرس کا پھیلاؤ کم ہونے کے بعد اس ایپلی کیشن کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کی کوئی ضرورت نہیں اور اس پر ادارے کو پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی ہیں۔
تاجکستان میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم
تاجکستان نے کرونا وائرس کے باعث گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے شاپنگ مالز، بازار، ریستوران، ہوٹل اور کئی دیگر سروسز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تاجکستان کی سرحدیں بدستور بند رہیں گی۔ مساجد اور ریلوے سروسز بھی فی الحال بند رہیں گی۔
خیال رہے کہ چین کے پڑوسی ملک تاجکستان میں کرونا وائرس کے کل 5035 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ وائرس سے 50 اموات بھی ہوئی ہیں۔