- By نذر الاسلام
کرونا کے باعث گلگت بلتستان میں غربت کے پھیلنے کا خدشہ
پاکستان میں سیاحت کے لیے مقبول مقام گلگت بلتستان ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ وہاں رواں برس نہ سیاح ہیں اور نہ ہی کاروباری سرگرمیاں۔ جس کی وجہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں۔
وادی ہنزہ کے علاقے گلمت کی رہائشی شميم بانو گزشتہ 22 برس سے قالين بافی کی صنعت سے وابستہ ہيں۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے رواں برس اب تک کسی نے بھی ان کے سینٹر کا رُخ نہيں کيا ہے۔
آٹھ خواتين پر مشتمل 'کارگاہ مرکز' کا تمام تر دار و مدار سياحت سے جڑا ہوا ہے۔
شميم بانو کے مطابق گلگت بلتستان کی نماياں اشيا ميں بکرے کی اون کی رگ، جسے مقامی زبان ميں 'شرما' يا 'پلوس' کہتے ہيں، وہ سياحوں ميں کافی مقبول ہے لیکن اس سال سیاح نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شديد مالی بحران کا خدشہ ہے۔
زیادہ ٹیسٹنگ ہو گی تو کرونا کے کیسز بھی بڑھیں گے: صدر ٹرمپ
امریکہ کی ایک درجن سے زائد ریاستوں میں کرونا وائرس کے کیسز میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ 'جان ہاپکنز بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ' میں ہیلتھ سیکیورٹی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹام انگلز بی نے کہا ہے کہ کیسز میں اضافے کی ایک وجہ ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانا بھی ہے۔
ڈاکٹر ٹام نے کہا کہ کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ ریاست ایریزونا، ٹیکساس، شمالی اور جنوبی کیرولائنا اور فلوریڈا میں دیکھا گیا۔ اتوار کو امریکہ میں 36 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول یہ اضافہ زیادہ ٹیسٹنگ کے نتیجے میں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے ڈھائی کروڑ سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اتوار کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زیادہ ٹیسٹ کریں گے تو کیسز میں لازمی اضافہ ہو گا۔ لہٰذا میں نے لوگوں سے ٹیسٹنگ کی رفتار کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ ایسا مزاقاً کہہ رہے تھے۔
افغانستان میں 889 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی اموات 598 ہو گئیں
افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 'کووڈ 19' کے 889 نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 29 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
افغانستان کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں وائرس سے اب تک کل 598 اموات ہوئی ہیں جب کہ 29 ہزار 139 افراد مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
کابل، ہرات، ننگر ہار، قندھار اور پکتیہ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 22 ہزار 581 ہے جب کہ باقی 28 صوبوں میں 6562 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت بحال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرونا وائرس کے سبب مارچ میں معطل ہونے والا دو طرفہ تجارت کا سلسلہ پیر سے ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔
دونوں ممالک کے تجارتی اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی درخواست پر پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ نے دو طرفہ تجارت بحال کرنے کا اعلامیہ چند دن قبل جاری کیا تھا۔ جس پر پیر سے عمل در آمد شروع ہو گیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں کے علاوہ شمالی وزیرستان کی ‘غلام خان گزرگاہ’ کے ذریعے دو طرفہ تجارت کا سلسلہ بحال کیا گیا ہے۔
افغانستان کی حکومت کی درخواست پر کراچی کے راستے ٹرانزٹ اور دیگر تجارتی سامان کی پاکستان سے برآمد کا سلسلہ رواں سال 10 اپریل سے جاری تھا جب کہ اس دوران افغانستان سے درآمدات کا سلسلہ بند تھا۔
وفاقی وزارتِ داخلہ کے اعلامیے سے قبل طورخم، چمن اور غلام خان گزرگاہوں پر تعینات دونوں ممالک کے اعلیٰ سول انتظامی اور سیکیورٹی عہدیداران کے مابین معاملات طے کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے۔ جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔