بھارت میں 18 ہزار سے زائد نئے کیسز، اموات 17 ہزار 400 ہو گئیں
بھارت میں کرونا وائرس کے 18 ہزار 653 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد 'کووڈ 19' کے مریضوں کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 85 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں 507 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 17 ہزار 400 ہو گئی ہے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کووڈ 19 کی بیماری میں مبتلا ہیں جب کہ تین لاکھ 47 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکام نے ممبئی شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے بعد شہر کے عوامی مقامات پر لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہے۔
بھارت میں یکم جولائی کو ڈاکٹروں کا قومی دن بھی منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرونا کے خلاف برسرِ پیکار ڈاکٹروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
برازیل میں کرونا سے اموات 60 ہزار کے قریب، کیسز 14 لاکھ سے زیادہ
لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی وبا سے 1271 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد لگ بھگ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
برازیل میں 'کووڈ 19' کے 14 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 59 ہزار 656 ہے۔ امریکہ کے بعد برازیل دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
کرونا وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد قطر میں پابندیاں نرم
قطر میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے کے بعد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔ بدھ کو حکام نے ریستوران، مساجد، پارکس اور دیگر عوامی مقامات کو محدود وقت کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
حکام کے مطابق میوزیم اور لائبریریاں بھی محدود وقت کے لیے کھلی رہیں گی۔
قطر میں کرونا وائرس کے 96 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 81 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس صورت بدل رہا ہے، زیادہ مہلک ہورہا ہے
امریکہ کے شہر شکاگو میں کرونا وائرس کے اولین کیسز جنوری میں ظاہر ہوئے تو ان کی جینیاتی صورت ویسی تھی جیسی چند ہفتے پہلے چین میں جنم لینے والے جرثومے کی۔
لیکن جب ڈاکٹر ایگون اوزر نے مقامی مریضوں کے نمونے جانچنا شروع کیے تو انھیں معلوم ہوا کہ وائرس کا جینیاتی ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے۔
ایگون اوزر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ وائرس میں بار بار تبدیلی ہورہی ہے۔ اس تبدیل شدہ صورت کا تعلق یورپ اور نیویارک میں پھوٹنے والی وبا سے تھا اور اس نے آخرکار شکاگو کو لپیٹ میں لے لیا۔ مئی تک ایگون اوزر نے جتنے نمونے جمع کیے، ان میں سے 95 فیصد میں وہی تبدیل شدہ وائرس پایا گیا۔
ایک نظر دیکھنے سے یہ تبدیلی غیر اہم لگتی ہے۔ وائرس کی سطح پر ایک پروٹین کو بنانے میں 1300 امینو ایسڈز استعمال ہوتے ہیں۔ تبدیل شدہ وائرس میں ان میں سے صرف ایک یعنی نمبر 634 کی جینیاتی ہدایات پر فرق پڑا ہے۔ اس وجہ سے اسپارٹک ایسڈ یا ڈی بدل کر گلیسین یا جی میں بدل گیا ہے۔
لیکن اس کا مقام اہم ہے کیونکہ یہ تبدیلی جینوم کے اس حصے میں ہوئی ہے جہاں اہم ترین اسپائیک پروٹین کی معلومات ذخیرہ ہوتی ہے۔ یہ وہ ڈھانچہ ہے جو کرونا وائرس کو تاج جیسی صورت دیتا ہے اور اسے نقب لگانے والے چور کی طرح انسانی خلیوں میں گھسنے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔
عام ہوجانے والا وائرس اسی تبدیل شدہ صورت کا ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق کرنے والوں نے مشترکہ ڈیٹابیس میں جو 50 ہزار نمونے جمع کیے ہیں ان میں سے 70 فیصد اسی تبدیل شدہ وائرس کے ہیں۔ اس کا پورا ڈی 614 جی ہے لیکن سائنس داں اسے صرف جی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔